ناقص تجزیہ
Urdu book, p. 140
By Maulana Wahiduddin Khan
کر دیا تھا۔ اتاترک نے صرف ایک ہونے والے واقعہ کا اعلان کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ۱۹۲۳ء تک عثمانی خلافت کے ماتحت مسلم ممالک میں قومی تحریکیں زبردست قوت کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئی تھیں۔ یہ تحریکیں شدت کے اس درجہ تک پہنچ چکی تھیں کہ ترکی میں بیٹھ کر ان ممالک پر حکومت کرنا نا ممکن ہو گیا تھا۔ گویا تقریبا وہی صورت حال تھی جو موجودہ صدی کے وسط میں برطانیہ کے لئے ہندوستان میں پیدا ہو چکی تھی۔ برطانوی وزیراعظم لارڈ اٹلی نے ہندوستان کو برطانوی غلامی سے آزاد نہیں کیا بلکہ ایک ہونے والے واقعہ کا سیاسی اعتراف کر لیا۔ اسی طرح کمال اتاترک نے حقیقتہً خلافت کو ختم نہیں کیا بلکہ وہ خلافت جس کو اس کے ماتحت مسلم ممالک اپنے قومی جوش کے تحت قبول کرنے سے انکار کر چکے تھے اس کو مان لیا اور ان ملکوں کی خواہش کے مطابق انھیں قومی آزادی دے دی۔ اس زمانہ میں عرب ممالک قومی جذبات سے اس قدر سرشار تھے کہ ان کے درمیان اگر کوئی سمجھ دار آدمی خلافت کو باقی رکھنے کی بات کرتا تو وہ اس کو قومی غدار سمجھ لیتے ۔ ایک بڑے عرب عالم جو خلافت کی ماتحتی کو باقی رکھنا چاہتے تھے جب ان کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنانا پڑا تو انہوں نے کہا : سیعلو قومى انه لا اغشهم ومهما استطال الليل فالصبح واصل جلد ہی میری قوم جان لے گی کہ میں نے اس کو دھو کا نہیں دیا ہے اور رات کتنی ہی لمبی ہو بہر حال اس کے بعد صبح آتی ہے۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے جو لیڈر اٹھے انھوں نے حالات کا تجزیہ کرنے میں کتنی زبردست غلطیاں کیں۔ اور جب تجزیہ غلط ہو تو لازمی طور پر عملی پرو گرام بھی غلط اور بے نتیجہ ہو کر رہ جاتا ہے۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ اکثر مسلم لیڈر کسی نہ کسی فرد کو مسلم مصائب کا ذمہ دار قرار دے کر اس کے خلاف طوفان مچاتے رہتے ہیں۔ مگر جب وہ اس فرد کو ختم کر لیتے ہیں یا اس کو سولی پر چڑھا دیتے ہیں تو اس کے بعد بھی مسائل بدستور باقی رہتے ہیں۔ جن لوگوں کے بس میں قتل کرنا ہے وہ قتل کر رہے ہیں۔ جن کے پاس قتل کرنے کی طاقت نہیں وہ مفروضہ ذمہ دار شخص کے خلاف الفاظ کا طوفان مچائے ہوئے ہیں۔ ہمارے مسائل کسی فرد کے پیدا کردہ نہیں ہیں۔ وہ وسیع تر تاریخی اسباب کے پیدا کردہ ہیں ۔ اور جب تک ان تاریخی اسباب کو دور نہ کیا جائے ہمارے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader