Urdu book · قیادت نامه

اردو صحافت اور اخلاقیات

Urdu book, p. 144

By Maulana Wahiduddin Khan

کے فکر کا خلاصہ یہ تھا کہ __ مسلمان موجودہ زمانے کے علوم میں پیچھے ہو گئے ہیں ، اس لیے وہ زمانی شعور میں بھی پیچھے ہیں۔ جب تک وہ زمانی شعور کے اعتبار سے زمانے کی سطح پر نہ آ جائیں وہ آج کی دنیا میں اپنے لیے با عزت مقام حاصل نہیں کر سکتے ۔ میرے نزدیک یہی وہ چیز ہے جہاں سے اخلاقیات کا آغاز ہوتا ہے ۔ اس دنیا میں ہر شخص یا گروہ خود اپنے کیے کو بھگتنا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : ان اللہ لا یغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسہم ۔ مولانا حالی نے اس آیت کے مفہوم کو اس طرح نظم کیا ہے : خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کو بدلنے کا یہ دنیا کے بارہ میں خدا کا قانون ہے ۔ ایسی حالت میں صحیح اخلاقی نقطہ نظر یہ ہوگا کہ اپنے مسائل کی ذمہ داری خود قبول کی جائے۔ جو چیز اپنی غفلت سے پیدا ہوئی ہے اس کی ذمہ داری خود قبول کرنے کا نام اخلاق ہے اور اپنی غفلت سے پیدا شدہ نتائج کو دوسروں کے اوپر ڈالنا ، یہی وہ چیز ہے جس کو غیر اخلاقی فعل کہتے ہیں ۔ بد قسمتی سے اکثر اردو صحافیوں کا معاملہ اس اعتبار سے بالکل مختلف نظر آتا ہے ۔ عام صحافیوں نے مسلمانوں کو یا تو اغیار کے ظلم کی مبالغہ آمیز داستانیں سنائیں جس کا نتیجہ صرف نفرت تھا۔ یا انھوں نے ماضی کی عظمت کے قصیدے پڑھے جس کا واحد ممکن انجام صرف یہ تھا کہ مسلمان جھوٹے فخر میں مبتلا ہو جائیں جو چیز اپنی نہیں ہے اس کو "اپنے اسلاف" کی لفظی منطق سے اپنی بنا کر فرضی طور پر خوش ہوتے رہیں ۔ مطابق واقعہ رپورٹنگ صحافتی اخلاقیات کی ایک اہم خصوصیت مطابق واقعہ رپورٹنگ ہے۔ یعنی حالات و واقعات کو ٹھیک ویساہی بیان کرنا جیسا کہ وہ فی الواقع ہیں۔ اس معاملہ میں اردو صحافت سب سے زیادہ ناقابلِ اعتبار صحافت ہے ۔ اردو اخبارات کی رپورٹنگ نہ صرف یک طرفہ ہوتی ہے۔ بلکہ اپنے وکیلانہ مزاج کی وجہ سے وہ اکثر غلط بھی ہوتی ہے ۔ اردو صحافت کا بنیادی نقص یہ ہے کہ وہ دشمنوں کے ظلم کے خلاف رد عمل کے طور پر ظہور میں آئی ۔ چنانچہ پوری اردو صحافت مستقل طور پر ایک قسم کے احساس مظلومی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page