اردو صحافت اور اخلاقیات
Urdu book, p. 143
By Maulana Wahiduddin Khan
اردو صحافت اپنے اس مزاج کی وجہ سے محض ایک قوم کی صحافت بن کر رہ گئی ہے ۔ قومی صحافت کا اصول یہ ہوتا ہے : ”میری قوم ، صحیح یا غلط “ اس کے برعکس اخلاقی صحافت کا اصول یہ ہوتا ہے : ”عالمی صداقت ، خواہ وہ میرے موافق ہو یا میرے خلاف “ اخلاقی اعتبار سے یہ کسی صحافت کی بنیادی خامی ہے اور اردو صحافت بلا شبہ اس خامی کی بدترین مثال ہے ۔ مولانا ابو الکلام آزاد کا الہلال اور مولانا محمد علی جوہر کا ہمدرد انگریزی حکومت کے خلاف رد عمل کی پیداوار تھا ۔ مولانان ثناء اللہ امرتسری کا اخبار اہل حدیث قادیانیوں ، آریہ سماجیوں اور عیسائی مشنریوں کے خلاف ایک صحافتی محاذ قائم کرنے کا دوسرا نام تھا ۔ مولانا عبد الماجد دریا بادی کا صدق مغربی تہذیب کے خلاف نوک جھونک کا صحافتی میدان تھا۔ دہلی کے مشہور اردو صحافی مولانا محمد عثمان فارقلیط کا اصل کارنامہ یہ تھا کہ وہ ہندو فرقہ پرستوں کے خلاف تیز و تند مضامین لکھتے تھے جس کی نمائندگی مشہور فرقہ پرست اخبار پرتاپ کرتا رہا ہے ۔ وغیرہ مولانا ظفر علی خاں نے اپنے اخبار زمین دار میں ایک بار پر فخر طور پر یہ شعر چھپا پا تھا : ابتر ہمارے حملوں سے حالی کا حال ہے میدان پانی پت کی طرح پامال ہے یہی موجودہ زمانہ میں تمام اردو صحافیوں کا حال رہا ہے ۔ ان میں سے ہر ایک کا ایک فرضی ”پانی پت “ تھا۔ ہر ایک اپنے مفروضہ پانی پت کے میدان میں اپنے خیالی دشمن کو قلمی شکست دے کر فتح کی خوشی مناتا رہا ۔ ہندوستان کی اردو صحافت کی پوری تاریخ میں ، میری معلومات کے مطابق ، اس اعتبار سے صرف ایک قابلِ ذکر استثناء ہے اور وہ سرسید کے تہذیب الاخلاق کا ہے ۔ تہذیب الاخلاق کو اگر چہ میں مکمل معنوں میں نہیں ، تاہم ۵۰ فی صد مثبت صحافت سمجھتا ہوں ۔ کیوں کہ تہذیب الاخلاق کی بنیاد ، دوسرے اردو جرائد کی طرح اغیار کے خلاف احتجاج پر نہ تھی ۔ بلکہ اپنی قوم کی اصلاح و تعمیر کے مثبت جذبہ پر تھی ۔ اردو صحافت میں غالباً سرسید پہلے قابلِ ذکر شخص ہیں جنھوں نے یہ بتایا کہ مسلمانوں کا اصل مسئلہ ان کی اپنی غفلت کا مسئلہ ہے نہ کہ دوسروں کے ظلم اور تعصب کا مسئلہ ۔ میرے اپنے الفاظ میں سرسید

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader