اردو صحافت اور اخلاقیات
Urdu book, p. 148
By Maulana Wahiduddin Khan
میں دوسروں کی باتیں نہایت بگڑی ہوئی شکل میں پیش کی جاتی ہیں۔ پھر دوسرے بھی اگر اپنے اخبارات میں ایسا ہی کریں تو ہمیں ان سے شکایت کرنے کا کیا حق۔ اس معاملے کی وضاحت کے لیے یہاں میں ایک مثال پیش کرتا ہوں ۔ شیو سینا کے لیڈر مٹر بال ٹھاکرے نے ۲۱ اپریل ۱۹۸۲ کو ممبئی میں ایک تقریر کی۔ یہ تقریر اردو اخبارات میں اشتعال انگیز سرخیوں کے ساتھ چھپی۔ اس کے بعد اس علاقہ کے مسلمان بھڑک اٹھے یہاں تک کہ مئی ۱۹۸۲ میں بھیونڈی اور ممبئی کے فسادات ہوئے جس میں مسلمانوں کا زبردست نقصان ہوا۔ مٹر بال ٹھاکرے کی اس تقریر کے بارے میں ہراردو اخبار یہ لکھ رہا تھا کہ اس میں پیغمبر اسلام کی توہین کی گئی ہے ۔ ایک اردو اخبار نے اس تقریر کے اوپر حسب ذیل سرخی لگائی: مسلمانوں کے پیغمبر ہمارا بول وبراز صاف کرتے تھے ؛ بھٹ کرے کی دریدہ دہنی مگر یہ ساری باتیں خود ساختہ رپورٹ کی بنیاد پر ہورہی تھیں ۔ میں نے بہت سے صحافیوں سے پوچھا کہ کیا آپ نے بال ٹھاکرے کی تقریر کا متن پڑھا ہے ۔ انھوں نے کہا نہیں۔ میں نے پوچھا، کیا آپ نے اس تقریر کا ٹائپ سنا ہے ۔ انھوں نے کہا نہیں۔ پھر میں نے پوچھا، کیا آپ نے بال ٹھاکرے کا وہ انٹرویو دیکھا ہے جو انگریزی ہفتہ وار (Link) ۳ جون ۱۹۸۲ میں چھپا ہے ۔ انھوں نے کہا نہیں۔ میں نے کہا کہ پھر یہ کیسا اسلام ہے کہ آپ بلا تحقیق اس کے خلاف اخباری محاذ قائم کیے ہوئے ہیں۔ میری عادت ہے کہ میں براہ راست تحقیق کے بغیر کسی کے خلاف کوئی بات نہیں کہتا۔ چنانچہ میں نے ہفتہ وار لنک کا مذکورہ شمارہ حاصل کیا۔ اس کو مکمل پڑھا۔ اس کے بعد اس کے بارے میں ایک مضمون لکھا جو ماہنامہ الرساله (ستمبر ۱۹۸۲) میں چھپ چکا ہے ۔ مذکورہ شائع شدہ انٹرویو کے مطابق بال ٹھاکرے نے کوئی قابل اعتراض بات نہیں کہی ۔ انھوں نے جو کچھ کیا وہ صرف یہ تھا کہ انھوں نے صحیح بخاری کی ایک روایت اپنے الفاظ میں نقل کی ۔ اس روایت میں حضرت ابو ہریرہ یہ بتاتے ہیں کہ ایک اعرابی نے مدینہ کی مسجد نبوی میں پیشاب کر دیا۔ لوگ اس کی طرف دوڑے ۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو چھوڑ دو اور اس کے پیشاب پر پانی بہا دو۔ کیوں کہ تم آسانی پیدا کرنے کے لیے بھیجے گئے ہو، تم مشکل پیدا کرنے کے لیے نہیں بھیجے گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader