Urdu book · قیادت نامه

اردو صحافت اور اخلاقیات

Urdu book, p. 149

By Maulana Wahiduddin Khan

مسٹر بال ٹھاکرے نے یہ روایت نقل کرنے کے بعد کہا کہ دیکھو مسلمانوں کے پیغمبر صاحب کا یہ حال تھا، مگر اب مسلمانوں میں اس قسم کی برداشت کہاں ہے : مسٹر بال ٹھاکرے کا یہ مطبوعہ انٹرویو کسی بھی اردو اخبار میں نقل نہیں کیا گیا۔ البتہ اس کے بعد ہر اردو اخبار نے بلا تامل مسٹر بال ٹھاکرے کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ اردو اخبارات نے مسٹر بال ٹھاکرے کی بات کو نہایت بگڑی ہوئی صورت میں پیش کیا اور اس پر پر شور تبصرے کیے۔ اردو اخبارات نے بال بھٹ کرنے کی بات کو کچھ سے کچھ بنا دیا ۔ کیا اس کے بعد بھی ہم کو یہ حق ہے کہ ہم دوسروں کے جاری کردہ اخبارات سے یہ تقاضا کریں کہ وہ ہمارے معاملات کی ترجمانی صحیح انداز سے کریں۔ کیا اس کے بعد بھی اس میں کوئی شبہ باقی رہتا ہے کہ اردو صحافت اور اخلاقیات دونوں دو متضاد چیزیں ہیں جو کم از کم اب تک ایک دوسرے کے ساتھ جمع نہیں ہوئیں ۔ منصفانہ تجزیہ نہیں صحافی اخلاقیات کا ایک جزو منصفانہ تجزیہ اور حقیقت پسندانہ تبصرہ ہے ۔ مگر اردو صحافت میں منصفانہ تجزیہ اتنا کم یاب ہے کہ بدرجہ امکان ہی اس کے وجود کو تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ جو لوگ منفی نفسیات میں مبتلا ہوں وہ کبھی مسائل کو بے لاگ انداز سے دیکھ نہیں سکتے ، اور جو لوگ مسائل کو بے لاگ انداز سے نہ دیکھ سکیں ان کے لیے یہ بھی ناممکن ہے کہ وہ مسائل کا منصفانہ اور حقیقت پسندانہ تجزیہ کریں۔ اردو صحافت اس اصول کی بدترین مثال ہے ۔ اردو زبان میں آج ہزاروں اخبار نکلتے ہیں اور ہر اخبار اپنی ہر اشاعت میں ایک اداریہ بھی ضرور شائع کرتا ہے۔ مگر یہ اداریئے بمشکل ہی اس قابل ہوتے ہیں کہ کوئی پڑھنے والا ان کو پڑھے۔ ان تمام اداریوں کا ایک مشترک عنوان دینا ہو تو وہ " چیخ پکار " ہو گا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مفروضہ تعصب اور امتیاز کے خلاف چیخ پکار کے سوا اردو اخبارات کے پاس کوئی اور بات ہی نہیں جس کو وہ اپنے تبصروں کا موضوع بنائیں۔ اور ظاہر ہے کہ اس قسم کی باتوں سے صرف کچھ سطحی لوگ دل چسپی لے سکتے ہیں، سنجیدہ لوگوں کو اس سے کوئی دل چسپی نہیں ہوسکتی ۔ اس سلسلہ میں ایک مثال لیجیئے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page