اردو صحافت اور اخلاقیات
Urdu book, p. 150
By Maulana Wahiduddin Khan
مئی ۱۹۸۵ میں یہ واقعہ ہوا کہ چاند مل چوپڑا نامی ایک شخص نے کلکتہ ہائی کورٹ میں قرآن کے خلاف ایک رٹ پٹیشن داخل کیا۔ اس میں یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ قرآن تشدد کی تعلیم دیتا ہے، اس لیے اس ملک میں اس کی اشاعت اور تقسیم کو قانونی طور پر بند کر دیا جائے۔ کلکتہ ہائی کورٹ نے اس پٹیشن کو سماعت کے لیے منظور کر لیا۔ اس کے بعد ، مئی ۱۹۸۵ کو جسٹس بی سی باسگ نے وہ تاریخی فیصلہ دیا جو تمام اخبارات میں چھپ چکا ہے۔ اس کیس کے بارے میں حسب معمول اردو اخبارات میں پر شور مضامین چھپے ۔ ان میں ایسے بھی تھے جنھوں نے اس قسم کی زبان استعمال کی کہ " چوپڑا کا کھوپڑا خراب ہو گیا ہے ۔ اور ایسے بھی تھے جنھوں نے اس سے مختلف زبان میں اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ تاہم سب کا مشترک خلاصہ ایک تھا ــــــــــــ اس کے خلاف اندھا دھند احتجاج ۔ کلکتہ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے کئی ماہ بعد ستمبر ۱۹۸۵ میں ایک اردو جریدہ نے اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا : " یہ ایک بڑا خوفناک واقعہ ہے جو پچھلے دنوں ہوا۔ عدالت نے اس استغاثہ پر کوئی باقاعدہ فیصلہ دینے کے بجائے معاملہ کو گول مول چھوڑ کر اس کو اپنے ریمارکس کے ساتھ محض روک دیا۔ گویا شراارت کا دروازہ اب بھی بند نہیں ہے ! " جن لوگوں نے اصل فیصلہ کو دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ اردو جریدہ کے یہ الفاظ سراسر واقعہ کے خلاف ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کلکتہ ہائی کورٹ نے معاملہ کو گول مول نہیں چھوڑا۔ بلکہ اس کو قطعی طور پر خارج کر دیا۔ جسٹس بمل چندر باسگ کے ۱۸ صفحات کے فیصلہ کے آخر میں پیراگراف نمبر ۴ کو پڑھیے ۔ اس میں واضح طور پر یہ الفاظ موجود ہیں : For the aforesaid reasons this application stands dismissed. یعنی مذکورہ حقائق کی بنا پر یہ درخواست ڈسمس کی جاتی ہے ۔ یہ اخلاق کی کون سی قسم ہے کہ عدالت کے ایک صحیح فیصلہ کا اعتراف نہ کیا جائے اور اس کے بارہ میں ایسے الفاظ لکھے جائیں جس سے اس کا وقار غیر ضروری طور پر مجروح ہوتا ہو ۔ اس قسم کے صحافتی تبصرہ کو صحافتی تبصرہ کے بجائے صحافتی الزام کہنا زیادہ صحیح ہوگا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader