Urdu book · قیادت نامه

تشویہ حقائق

Urdu book, p. 155

By Maulana Wahiduddin Khan

یعنی یہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے ۔ یہاں جو لوگ شکست کے خلاف شکوہ شکایت چھوڑ دیں اور حالات کے بارہ میں کچھ مثبت کام کرنے کی خاطر اس کو مان لیں ، وہی آخر کار کامیاب ہوتے ہیں ۔ ہمیں کبھی اس حقیقت کو بھولنا نہیں چاہیے کہ تدبیری طور پر پیچھے ہٹنا ، دوبارہ میدان مقابلہ میں آنے کو ممکن بناتا ہے ۔ اس حکمت عملی کو چودہ سو سال پہلے مسلمانوں نے بہت اچھی طرح سمجھ لیا تھا جب کہ انھوں نے حدیبیہ کے صلح نامہ کو تیار کیا تھا ۔ یہ صلح اگر چہ بظاہر دشمن سے بہت زیادہ جھک کر کی گئی تھی ۔ مگر آخر کار اس نے اسلامی مشن کو یہ موقع دیا کہ وہ کسی رکاوٹ کے بغیر آگے بڑھتا چلا جائے ۔ ٹائمز آف انڈیا کے مذکورہ مضمون میں ایک ذیلی سرخی ان الفاظ میں قائم کی گئی تھی : Strategic Retreat یعنی تدبیری واپسی ۔ یہ عین وہی بات ہے جو خود قرآن ( الانفال ۱۶ ) میں کہی گئی ہے ۔ مگر الرائد نے تشویہ حقائق کے اصول کے تحت یہ کیا کہ اس نے صرف لفظ Retreat کو لے لیا اور دوسرے لفظ Strategic کو حذف کر دیا ۔ یعنی جو چیز " تدبیری واپسی " کے طور پر کہی گئی تھی اس کو صرف " واپسی " بنا کر پیش کر دیا ۔ یہ وہی طریقہ ہے جس کے ذریعہ کسی نے قرآن سے یہ حکم نکال لیا تھا کہ " نماز کے قریب نہ جاؤ " اور اس عجیب و غریب قرآنی تعلیم کا ماخذ یہ تھا کہ اس نے قرآن کی ایک آیت کو ادھوری شکل میں پیش کیا ۔ قرآن میں کہا گیا تھا کہ : لَا تَقْرَبُوا الصَّلَوةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى ۔ (النساء ، ۴۳) اس نے سادہ طور پر یہ کیا کہ آیت کے آخری لفظ کو حذف کر دیا اور کہ کہا کہ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ لا تقربوا الصلوة ۔ اگر یہ کوئی طریق استدلال ہے تو اس طرح ہر بات ثابت کی جا سکتی ہے ، خواہ وہ کتنی ہی زیادہ الٹی بات کیوں نہ ہو ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page