Urdu book · قیادت نامه

ام المسلمین

Urdu book, p. 156

By Maulana Wahiduddin Khan

امر المسلمین ہندوستان کے مسلم رہنما جس چیز کو مسلمانوں کے ملی مسائل کہتے ہیں، وہ درحقیقت مسلمانوں کے قومی مسائل ہیں۔ یہ مسلمانوں کے اپنے قومی حقوق اور مادی مفادات کا جھگڑا ہے جو انہوں نے اس ملک کی حکومت اور یہاں کے اکثریتی فرقہ کے خلاف بے معنی طور پر چھیڑ رکھا ہے۔ اس قومی عمل کو اسلامی عمل ثابت کرنے کے لیے ان کے رہنماؤں نے ایک حدیث دریافت کرلی ہے۔ وہ حدیث یہ ہے : من لم يهمّم بأمر المسلمين فليس منهم (جو شخص مسلمانوں کے معاملے کے لیے فکر مند نہ ہو وہ ان میں سے نہیں) ہمارے رہنماؤں نے اس حدیث سے " امر المسلمين " کا لفظ لیا اور اس کو موجودہ مسلمانوں کے تمام قومی جھگڑوں پر منطبق کر دیا۔ مگر استدلال کا یہ طریقہ لغویت کی حد تک غلط ہے۔ امر المسلین سے کون سا " امر " مراد ہے ، اس کا تعین قرآن وسنت سے ہوگا، نہ کہ موجودہ مسلمانوں کے اپنے قومی رواجوں سے ۔ اس حدیث میں امر المسلمین کا مطلب یہ نہیں کہ مسلمان نامی گروہ جس چیز کو بھی اپنا امر (معاملہ) سمجھ لے، وہ مسلمانوں کا امر بن جائے گا ، اور اس کے لیے فکر مند ہونا اور اس کے لیے تدبیر کرنا ضروری ہو جائے گا۔ امر المسلین وہ ہے جو خدا اور رسول کے نزدیک امر المسلمین نہ کہ خود مسلمانوں کے نزدیک امر المسلمین۔ مکہ کے مسلمانوں پر ہر قسم کا ظلم کیا جا رہا تھا۔ انھوں نے چاہا کہ اپنی مظلومیت کو ختم کرنے کے ظالموں سے جنگ کریں ، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو امر المسلمین نہیں مانا اور ان کو ایک طرفہ طور پر صبر کرنے کا حکم دیا۔ حدیبیہ کے معاہدہ کی دفعات صحابہ کرام کو " ملی غیرت " کے خلاف معلوم ہوئیں۔ انھوں نے چاہا کہ اسے رد کر دیں اور قریش سے لڑیں ۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو امر المسلمین تسلیم نہیں کیا اور لوگوں کو مجبور کیا کہ وہ اس معاہدہ کو قبول کرلیں ۔ فتح مکہ کے بعد مہاجرین نے چاہا کہ مکہ میں اپنے چھوڑے ہوئے مکانوں پر دوبارہ قبضہ کریں۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بھی امر المسلمین کی حیثیت نہ دی اور مہاجرین کو حکم دیا کہ وہ اپنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page