ایک آیت
Urdu book, p. 161
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ دونوں چیزیں انسان کے لیے بے حد سخت ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان سے زیادہ سخت چیز اور کوئی اس دنیا میں نہیں ۔ مذکورہ آیت میں جو حکم دیا گیا ہے ، اس کی اسی سنگین نوعیت کی بنا پر وہ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے لیے بہت شدید ثابت ہوئی تھی۔ البتوی نے نقل کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس نے کہا کہ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کوئی آیت نہیں اتری جو آپ پر اس آیت سے زیادہ شدید ہو۔ اسی لیے آپ نے فرمایا کہ سورہ ہود نے مجھ کو بوڑھا کر دیا (ما نزلت علی عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم آية هي اشد عليه من هذه الآية ولذلك قال : شيبتني سورة هود) قومی رجحان ہر قوم کا ایک قومی رجحان ہوتا ہے۔ اس رجحان کا ساتھ دینے سے قوم کے اندر قیادت اور مقبولیت حاصل ہوتی ہے۔ اور جو شخص اس رجحان کے خلاف بولے ، وہ قوم کے اندر بے جگہ ہو جاتا ہے۔ اس کو قوم کے اندر نہ مقبولیت حاصل ہوتی اور نہ قیادت۔ اس معاملہ کو وقت کی ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشمیر کا مسئلہ ہے۔ ہندوستان کا قومی رجحان یہ ہے کہ کشمیر ایک حل شدہ معاملہ ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کا قومی رجحان یہ ہے کہ کشمیر ایک غیر حل شدہ اور متنازعہ معاملہ ہے۔ چنانچہ دونوں ملک کے لیڈر جب اس مسئلہ پر بولتے ہیں تو وہ اپنے یہاں کے قومی رجحان کی پوری رعایت کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اس کے خلاف بولتے ہی وہ ختم ہو جائیں گے۔ اس کی مثال دونوں ملکوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ مثلاً ہندوستان میں آنجہیانی راج گوپال اچاری نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ ابھی طے ہونا باقی ہے ، اس کے بعد وہ ملک کے اندر بالکل غیر مقبول ہو گئے۔ اسی طرح پاکستان میں خان عبدالغفار خان کا کہنا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ آخری طور پر طے ہو چکا ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ پاکستان میں غیر مقبول ہو کر رہ گئے — اس سے سمجھا جا سکتا ہے کہ وہ چیز کیا ہے جس کو قرآن میں رکون (ہود ۱۱۳) کہا گیا ہے۔ رکون (جھکاؤ) اگر کسی گروہ کی طرف ہو تو اس سے آدمی کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader