Urdu book · قیادت نامه

حکیمانہ تدبیر

Urdu book, p. 165

By Maulana Wahiduddin Khan

حکیمانہ تدبیر دنیا مقابلہ کا میدان ہے۔ یہ مقابلہ اول دن سے جاری ہے اور آخری دن تک جاری رہے گا۔ مقابلہ کا یہ نظام خود خدا کا قائم کیا ہوا ہے ۔ اس لئے کوئی شخص یا قوم اس کو بدلنے پر قادر نہیں، خواہ وہ اس کے خلاف کتنا ہی زیادہ فریاد اور احتجاج کرے۔ مقابلہ کی اس دنیا میں کوئی شخص صرف حکیمانہ تدبیر سے کامیاب ہو سکتا ہے ۔ حکیمانہ تدبیر سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے اور دوسرے کے معاملہ کو گہرائی کے ساتھ سمجھے اور ایسے حالات پیدا کرے جس میں فیصلہ کا سرا اس کے اپنے ہاتھ میں آجائے ۔ اس بات کو ایک لطیفہ سے بخوبی طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک سارس اور ایک لوطڑی میں دوستی تھی۔ ایک بار لوطڑی نے سارس سے کہا کہ آؤ ہم دونوں مل کر کھیر پکائیں۔ کچھ سامان تم لاؤ اور کچھ سامان میں لاؤں۔ اس طرح کھیر تیار کی جائے اور پھر دونوں مل کر اسے کھائیں ۔ چنانچہ دونوں سامان لے آئے اور کھیر پکا کر تیار کی گئی۔ جب کھیر کو نکال کر برتن میں رکھنے کا وقت آیا تو لوطڑی فوراً ایک تھال لے آئی۔ اس نے کہا کہ کھیر اس میں رکھی جائے گی۔ کھیر کو تھال میں رکھ کر لوطڑی نے کھانا شروع کر دیا اور سارس سے کہا کہ آؤ تم بھی کھاؤ۔ تھال جیسے برتن میں کھانا لوطڑی کے لئے آسان تھا۔ چنانچہ لوطڑی ساری کھیر کھا گئی۔ سارس اپنی لمبی چونچ پھیلے ہوئے تھال میں ادھر ادھر مارتا رہا مگر وہ کھیر کی بہت کم مقدار حاصل کر سکا۔ سارس نے اپنے دل میں کہا کہ لوطڑی نے تو اس طرح مجھے بے وقوف بنا دیا۔ آخر کار اس نے سوچ کر ایک تدبیر نکالی۔ اس نے لوطڑی سے کہا کہ آؤ ایک بار اور ہم دونوں مل کر کھیر پکائیں۔ دوبارہ دونوں سامان لے آئے ۔ اور کھیر پکا کر تیار کی گئی۔ اب سارس نے پیشگی منصوبہ کے مطابق فوراً ایک صراحی لا کر رکھ دی۔ اور کہا کہ کھیر اس میں رکھی جائے گی۔ چنانچہ کھیر نکال کر صراحی میں رکھ دی گئی۔ سارس نے فوراً صراحی کے منہ میں اپنی لمبی چونچ ڈال کر کھیر کو کھانا شروع کر دیا اور لوطڑی سے کہا کہ تم بھی کھاؤ۔ مگر اب صورت حال سارس کے حق میں تھی۔ سارس نے خوب سیر ہو کر کھیر کھائی اور لوطڑی بھوکی رہ گئی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page