Urdu book · قیادت نامه

حکیمانہ تدبیر

Urdu book, p. 170

By Maulana Wahiduddin Khan

امکان موجود تھا جس کی ایک مثال اس ہائی کورٹ کے فیصلے کی صورت میں اوپر بتائی گئی ہے مگر مسلم لیڈروں نے اس امکان کو استعمال نہ کرتے ہوئے عین اس کے برعکس عمل کیا۔ مارچ ۱۹۸۶ میں بابری مسجد ایکشن کمیٹی بنائی گئی۔ اس نے فورا ہی ایجی ٹیشن کے انداز میں اپنی سرگرمیاں شروع کر دیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں جلسے کر کے جوشیلے تقریریں کی گئیں اور جلوس کے مظاہرے سڑکوں پر کئے جانے لگے۔ ۲۶ جنوری ۱۹۸۷ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا۔ مارچ ۱۹۸۷ میں تین لاکھ مسلمانوں کی ریلی دہلی میں نکالی گئی جس میں نعروں اور تقریروں کا ہنگامہ گرم کیا گیا۔ اعلان کیا گیا کہ اگست اور اکتوبر ۱۹۸۸ء میں لاکھوں مسلمان مارچ کرتے ہوئے اجودھیا میں داخل ہوں گے اور بابری مسجد میں گھس کر جمعہ کی نماز پڑھیں گے۔ نشور وغل کی اس سیاست سے بابری مسجد تو مسلمانوں کو نہیں ملی۔ البتہ فرقہ پرست ہندو جاگ اٹھے۔ یوپی، بہار، مدھیہ پردیش، گجرات وغیرہ میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے جن میں مسلمان ہزاروں کی تعداد میں مارے گئے۔ اربوں روپئے کی جائیدادیں بر باد کر دی گئیں. جس وقت یہ سب کچھ ہو رہا تھا، عین اس وقت اس مسئلہ کے حل کے لئے ایک انتہائی شاندار امکان مسلمانوں کے لئے اس ملک میں موجود تھا۔ مگر مسلم لیڈر اپنی نا قابل فہم بے خبری کی بنا پر نہ اس سے آگاہ ہوئے اور نہ اس امکان کو استعمال کرنے کی کوئی سنجیدہ تدبیر کر سکے۔ یہاں میں ایک خصوصی میٹنگ کا حوالہ دینا چاہتا ہوں جس کا تفصیلی تذکرہ الرسالہ جولائی ۱۹۸۸ میں چھپ چکا ہے۔ یہ میٹنگ نئی دہلی کے وٹھل بھائی پٹیل ہاؤس میں ۲۷ مارچ ۱۹۸۸ کو ہوئی ۔ اس کا مقصد بابری مسجد (اجودھیا) کے مسئلہ کا حل تلاش کرنا تھا۔ اس میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے ذمہ دار حضرات شریک ہوئے ۔ مسلمانوں کی طرف سے جن لوگوں نے میٹنگ میں شرکت کی، ان میں سے ایک میں بھی تھا۔ ہندو سائیڈ میں مہنت او وید ناتھ (صدر رام جنم بھومی مکتی یگیہ سمتی)، آچاریہ یمنی سوشیل کمار، سنے ڈالیا اور دوسرے بہت سے ذمہ دار حضرات شریک تھے ۔ جب تمام لوگ بول چکے تو میں نے ایک مختصر تقریر کی۔ ضروری پہلوؤں پر اظہار خیال کے بعد میں نے کہا کہ اس مسئلہ کے حل کے لئے سب سے زیادہ بہتر طریقہ ثالثی کا اصول ہے۔ اگر دونوں فریق ثالثی کے اصول کو مان لیں تو میری تجویز ہے کہ مسئلہ تاریخ دانوں (تاریخ کے پروفیسروں) کا ایک بورڈ بنایا جائے ۔ دونوں طرف کے ذمہ دار لوگ اس بات کا پیشگی عہد کریں کہ تاریخ دانوں کا بورڈ جو فیصلہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page