حکیمانہ تدبیر
Urdu book, p. 171
By Maulana Wahiduddin Khan
کرے گا، اس کو وہ بلا بحث مان لیں گے اور فورا اس کی تعمیل کریں گے۔ ہندو سائنڈ کے تمام لوگ، بشمول ہمنت اوید ناتھ (موجودہ ایم پی) نے اس تجویز سے مکمل اتفاق کیا۔ ہر ایک نے کہا کہ ہم اس تجویز کو مانتے ہیں۔ اس کو باقاعدہ صورت دی جائے اور اس کے مطابق با بر می مسجد ۔ رام جنم بھومی قضیہ کا فیصلہ کیا جائے۔ مگر مسلم سائنڈ نے اس تجویز کو منظور نہیں ہونے دیا۔ سید شہاب الدین صاحب تقریبا بچینے کے انداز میں بولنے لگے کہ ہم کو یہ تجویز منظور نہیں۔ مسلم سائنڈ کے دوسرے تمام افراد نے خاموش رہ کر سید شہاب الدین کی بالواسطہ تائید کی۔ ان خاموش رہنے والوں میں جماعت اسلامی کے نمائندہ جناب افضل حسین صاحب (وفات یکم جنوری ۱۹۹۰) بھی شامل تھے ۔ اس طرح ہندو سائنڈ کی متفقہ تائید کے باوجود یہ میٹنگ شور و غل پر ختم ہوگئی۔ اب غور کیجئے کہ ۷ مارچ ۱۹۸۷ کی اس تجویز کو اگر مسلم رہنماؤں نے مان لیا ہوتا تو کیا ہوتا۔ اس کا اندازہ نہایت آسانی سے ان خطوط اور مضامین اور بیانات کے ذریعہ کیا جا سکتا ہے جو اس موضوع پر ہندوؤں کے تعلیم یافتہ طبقہ کی طرف سے برابر شائع کئے جاتے رہے ہیں ۔ ۱۹۸۷ ۔ ۱۹۸۶ کے درمیان اس قسم کی تحریریں کثرت سے شائع ہوئی ہیں جن کو عام مسلمان بھی قومی آواز ، تعمیر حیات نقیب ، دعوت ، نئی دنیا ، اخبار نو وغیرہ کی فائلوں میں دیکھ سکتے ہیں۔ یہاں میں صرف دو حوالوں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ یہ دو حوالے بطور حصر نہیں بلکہ صرف بطور مثال ہیں۔ انھیں پر دوسروں کو بھی قیاس کیا جا سکتا ہے۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی (نئی دہلی) میں ایک بڑا تاریخی ادارہ ہے جس کو سینٹر فار ہشاریکل اسٹڈیز کہا جاتا ہے۔ اس ادارہ کے ۲۲ پروفیسروں نے بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی مسئلہ کا مطالعہ خالص تاریخی انداز میں کیا اور اس پر ایک مفصل دستاویز تیار کی ۔ یہ دستاویز ان کی طرف سے مشترکہ طور پر شائع کی گئی ۔ اس دستاویز کا خلاصہ ٹائمس آف انڈیا (۶ نومبر ۱۹۸۹ء) میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس دستاویز کا اردو ترجمہ قومی آواز (۲ جنوری ۱۹۹۰) میں شائع ہوا ہے۔ اس تاریخی دستاویز پر جن لوگوں کے دستخط ہیں ان میں پروفیسرایں گوپال ، پروفیسر روميلا تھا پر، پروفیسر پن چندر جیسے ممتاز مورخین کے نام بھی شامل ہیں۔ اس مشترکہ تاریخی دستاویز میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ بابری مسجد تو ایک تاریخی واقعہ ہے، مگر رام جنم بھومی کی کوئی تاریخی حقیقت نہیں ۔ یہ ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader