Urdu book · قیادت نامه

حکیمانہ تدبیر

Urdu book, p. 172

By Maulana Wahiduddin Khan

فرضی کہانی ہے جو زیادہ تر در المیکی کی افسانوی نظم (رامائن) پر مبنی ہے۔ اس کا معلوم تاریخ سے کوئی تعلق نہیں۔ ان تاریخی پروفیسروں کے پیش کئے ہوئے حقائق اتنے قطعی تھے کہ خود ہندوؤں میں بھی کوئی اس کو علمی طور پر رد نہ کر سکا۔ مثلاً مسٹر کے آر ملکھانی (ٹائمس آف انڈیا ۵ جنوری ۱۹۹۰ ) نے بالواسطہ طور پر اقرار کر لیا کہ رام جنم بھومی کا قصہ ابتدائی دور کا افسانہ (primitive myth) کی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم یہ مذہبی معاملہ ہے، اس لئے اس کو پیشہ ور تاریخ دانوں کے ذریعہ طے نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے جواب میں ایک نہایت ممتاز دانشور ملک راج آنند (بمبئی) نے نہایت سخت تردیدی خط لکھا جو ٹائمس آف انڈیا (۵ فروری ۱۹۹۰) میں چھپا ہے۔ دوسرا حوالہ جو میں اس سلسلہ میں دینا چاہتا ہوں ، وہ ایک واقعہ ہے جو مختلف اخباروں ، مثلاً اسٹیٹس مین (۶ جنوری ۱۹۹۰ ) میں چھپا ہے۔ بعض اردو اخباروں میں بھی اس کی روداد آئی ہے، مثلاً نئی دنیا (۲۷ جنوری ۱۹۹۰ ) اسٹیٹس مین کی رپورٹ کی نقل الگ صفحہ پر شائع کی جارہی ہے۔ ہندوستانی مورخوں کی ایک قدیم اور نہایت اہم تنظیم ہے جس کا نام انڈین ہسٹری کانگریس ہے۔ اس کے اجلاس ہر سال ملک کے مختلف حصوں میں ہوتے ہیں۔ ۱۹۸۹ اس تاریخی انجن کی گولڈن جوبلی کا سال تھا۔ اس کے تحت ۳۰ دسمبر ۱۹۸۹۔ یکم جنوری ۱۹۹۰ کو اس کا اجلاس گورکھپور میں ہوا۔ میزبانی کے فرائض گورکھپور یونیورسٹی نے انجام دئے۔ اس کانگریس میں ملک کے مختلف حصوں سے ۳۰۰ سے زیادہ ڈیلی گیٹ شریک ہوئے۔ یہ لوگ ملک بھر کی سو سے زیادہ یونیورسٹیوں کے شعبۂ تاریخ سے تعلق رکھتے تھے۔ ۱۹۸۶ میں جب بابری مسجد۔ رام جنم (ایودھیا) کے مسئلے نے شدت اختیار کی تو اس وقت انڈین ہسٹری کانگریس نے اپنے اجلاس (۱۹۸۶) میں متفقہ طور پر ایک رزولیوشن منظور کیا تھا۔ یہ رزولیوشن انڈین ہسٹری کانگریس کی رپورٹ ۱۹۸۶ (صفحہ ۱۸۷) میں چھپا ہوا موجود ہے۔ اس رزولیوشن میں اجلاس میں شریک ہونے والے تمام تاریخ دانوں نے متفقہ طور پر کہا تھا کہ: "انڈین ہسٹری کانگریس ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی اور انتشار پسندی پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ اس رجحان کی ایک تشویشناک مثال کسی فرقہ کی صدیوں پرانی عبادت گاہوں کو اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page