Urdu book · قیادت نامه

حکیمانہ تدبیر

Urdu book, p. 174

By Maulana Wahiduddin Khan

بنیاد پر دوسرے فرقوں کی عبادت گاہوں میں تبدیل کرنے کی کوشش ہے کہ ان کو ان مقامات پر تعمیر کیا گیا تھا جہاں پہلے آخر الذکر فرقہ کی عبادت گاہیں تھیں۔ انڈین ہسٹری کانگریس کا خیال ہے کہ ماضی کی تخریبی کارروائیوں کی داستانوں کو دہرانا تاریخ کے نام کو ناپاک مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کرنے کے ہم معنی ہے۔ اس بات کو نہ بھولنا چاہئے کہ اس تحریک کے رہنما جو شہادتیں پیش کرتے ہیں وہ اکثر مشکوک ہوتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تحریک آزاد ہندوستان کی سیکولر اقدار کے منافی ہے۔ ہسٹری کانگریس تمام لوگوں سے، بالخصوص مورخوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ سائنس اور سیکولرزم پر اس حملہ کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔ (خلاصہ) گورکھپور کے اجلاس میں ۳۰ دسمبر ۱۹۸۹ کو اس سابقہ ریزولیوشن کی نقلیں تمام شرکاء کے درمیان تقسیم کی گئیں تاکہ موجودہ اجلاس میں دوبارہ اس کی توثیق کرائی جائے ۔ اس کی خبر مہنت او وید ناتھ کو ہوئی ۔ وہ رام جنم بھومی تحریک کے لیڈر ہیں۔ انھوں نے گورکھپور سے وشو ہندو پریشد کے ٹکٹ پر لوک سبھا کے چناؤ (۲۲ نومبر ۱۹۸۹) میں حصہ لیا اور کامیاب ہوئے۔ مہنت او وید ناتھ (ایم پی) کو اس کی خبر ملی تو انھوں نے گورکھپور یونیورسٹی کی خاتون وائس چانسلر پرتیما استھانا کے پاس درخواست بھیجی کہ ان کو ہسٹری کانگریس کے اجلاس میں تقریر کرنے کی اجازت دی جائے۔ ہسٹری کانگریس کے مندوبین اس کے حق میں نہیں تھے۔ تاہم وائس چانسلر نے انھیں اجازت دے دی۔ مہنت او وید ناتھ آرایس ایس کے کچھ نوجوانوں کے ساتھ اجلاس میں آگئے ۔ کانگریس کے مندوبین کو اس پر سخت اعتراض ہوا۔ یہاں تک کہ انھوں نے واک آؤٹ کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ تین سومندوبین میں سے صرف آٹھ آدی اجلاس میں باقی رہے۔ مہنت او وید ناتھ نے ایک ایسے ہال میں تقریر کی جہاں زیادہ تر خالی کرسیاں ان کو سننے کے لئے موجود تھیں۔ واک آؤٹ کرنے کے بعد مندوبین نے ہال کے باہر لان پر اپنی میٹنگ کی۔ اس میں مختلف یونیورسٹیوں کے شعبہ تاریخ کے پروفیسروں نے تقریریں کیں۔ انھوں نے کھلے لفظوں میں اعلان کیا کہ ایک ایم پی تو درکنار، پارلیمنٹ کے تمام ممبران بھی ہم کو اس راہ سے نہیں ہٹا سکتے جس کو ہم تاریخی طور پر پر درست سمجھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مہنت جی کا نام ایجنڈے میں شامل نہیں اس لئے انھیں ہسٹری کانگریس سے خطاب کرنے کا کوئی حق نہیں۔ انھوں نے اس بات پر سخت غصہ کا اظہار کیا کہ فرقہ پرست

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page