Urdu book · قیادت نامه

حکیمانہ تدبیر

Urdu book, p. 175

By Maulana Wahiduddin Khan

لوگ اپنے پروپیگنڈے کے لئے ہسٹری کانگریس کا پلیٹ فارم استعمال کر رہے ہیں۔ گورکھپور یونیورسٹی کے طالب علموں کی بڑی تعداد نے بھی کھل کر اس کی حمایت کی۔ اس معاملہ نے اتنی شدت اختیار کی کہ بعد کو خود وائس چانسلر پر تیاستھانانے کھل کر اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔ اور اگلے اجلاس میں مندوبین سے معافی مانگی۔ مہنت اوید ناتھ جب خالی کرسیوں کو خطاب کرکے واپس چلے گئے تو مندوبین دوبارہ اسمبلی ہال میں واپس آئے اور ایک بار پھر انھوں نے اتفاق رائے سے وہ ریزولیوشن منظور کیا جو دسمبر ۱۹۸۶ میں متفقہ طور پر منظور کیا جا چکا تھا۔ اس سلسلہ میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کانگریس کے آٹھ مندوبین جو وک آؤٹ میں شریک نہیں ہوئے تھے ، وہ بھی اس ریزولیوشن کی مخالفت کی جرات نہ کرسکے۔ جب ریزولیوشن پر رائے شماری کی گئی تو اجلاس کے ایک شخص نے بھی اس کی مخالفت میں اپنا ووٹ نہیں دیا۔ اوپر کے حوالوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوؤں کا دانشور اور مورخ طبقہ عام طور پر غیر فرقہ دارانہ انداز میں سوچتا ہے۔ وہ معاملات پر سائنٹفک انداز سے رائے قائم کرتا ہے۔ اس حقیقت کو سامنے رکھیں تو نہایت آسانی کے ساتھ یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اگر ۱۲، مارچ ۱۹۸۱ کی تجویز کو مسلم لیڈروں نے منظور کر کے اس پر عملدر آمد کیا ہوتا تو اس کا نتیجہ کس صورت میں نکلتا۔ یہ یقینی طور پر "کھییر" کو اپنے موافق برتن میں رکھنے کے ہم معنی ہوتا۔ کیوں کہ تاریخ دانوں کا لارڈ اپنے علمی ذہن کی بنا پر تاریخی حقائق کی بنیاد پر فیصلہ کرتا۔ اور جب تاریخی حقائق کی بنیاد فیصلہ کیا جاتا تو وہ عین مسلمانوں کی موافقت میں ہوتا۔ یہاں مسلمانوں کے نادان لیڈروں نے ناقابل معافی ملی جرم کیا ہے۔ ان لوگوں کے لئے یہ موقع تھا کہ اجودھیا مسئلہ کی "کھییر" کو اپنے موافق برتن میں رکھوائیں۔ مگر انھوں نے ناقابل فہم نادانی کے تحت اس کو اپنے غیر موافق برتن میں رکھ دیا۔ مورخین سے فیصلہ لینے کے بجائے انھوں نے یہ کیا کہ مسئلہ کو عوامی مظاہروں کا عنوان بنایا۔ وہ سڑکوں پر اس کا فیصلہ کرنے کی طرف دوڑ پڑے۔ یہ کھییر کو اس برتن میں رکھنے کے ہم معنی تھا جو فریق ثانی کے لئے زیادہ موافق ہو ۔ اس کے بعد جو نتیجہ نکلا وہ عین وہی تھا جو قانون قدرت کے تحت پیشگی طور پر اس کے لئے مقدر تھا۔ ایک فریق ساری کھییر کھاگیا ، اور دوسرا فریق بے بسی کے ساتھ اس کو دیکھتا رہا، اور کچھ نہ کہہ سکا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page