عمل کے نام پر بے عملی
Urdu book, p. 180
By Maulana Wahiduddin Khan
کبھی بن سکتا ہے۔ ایسے گھر میں تعمیر کا آغاز کھمبوں اور دیواروں کی مضبوطی سے ہو گا نہ کہ چھت کا ڈھانچہ کھڑا کرنے سے۔ ماضی کی اس غلطی کی واحد تلافی یہ ہے کہ غلطی کا اعتراف کیا جائے ۔ اور حال میں وہ کام شروع کر دیا جائے جو ماضی میں نہ ہو سکا۔ یعنی احیاءِ حکومت پر نظریں جمانے کے بجائے احیاءِ قلب پر اپنی ساری طاقت صرف کرنا ۔ اس کے سوا ہر سرگرمی صرف وقت کا ضیاع ہے ، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس وقت تمام کاموں سے زیادہ ضروری کام یہ ہے کہ مسلمان عمل اور نتیجہ کے فرق کو سمجھیں ۔ اس دنیا میں جب بھی کوئی شخص کسی نتیجہ کو پاتا ہے تو وہ اس کے موافق ضروری عمل کرنے کے بعد اسے پاتا ہے ۔ یہ نا ممکن ہے کہ کوئی شخص عمل کو حذف کر کے اچانک اپنے مطلوبہ نتیجہ کو پالے ۔ ایسا کبھی کسی کے لئے نہیں ہوا ، اور نہ آج وہ کسی کے لیے ہو سکتا ہے ۔ مزید یہ کہ عمل محض حرکت کا نام نہیں ہے ، بلکہ صحیح حرکت کا نام ہے ۔ جو نتیجہ مطلوب ہو، اس کے مطابق ایک درست عمل ہوتا ہے ۔ اس درست عمل کو اس کے تمام تقاضوں کے تحت انجام دینا پڑتا ہے اس ابتدائی مرحلہ کو اس کی تمام ضروری شرائط کے ساتھ گزارنے کے بعد ہی وہ وقت آتا ہے کہ آدمی اپنے مطلوب نتیجہ کو پائے ۔ ضروری عمل کے بغیر نتیجہ کو پانے کے لئے دوڑ نا ایک بے معنی اچھل کود ہے۔ اس کا کوئی نتیجہ کسی کے حق میں نکلنے والا نہیں، خواہ اس نے اپنی اچھل کود کو اسلام کا خوبصورت نام کیوں نہ دے رکھا ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader