Urdu book · قیادت نامه

عمل کے نام پر بے عملی

Urdu book, p. 179

By Maulana Wahiduddin Khan

کیا جاتا ہے۔ جب یہ سب کام ہو جائے، اس وقت زمین پیدا وار کے لئے صالح ہو جاتی ہے۔ اب کسان اس زمین میں بیج ڈالتا ہے۔ جو کسان اس طرح زرعی عمل کرے، وہی اپنی زمین سے عمدہ فصل حاصل کرتا ہے۔ اس کے برعکس جو کسان زمین کی تیاری سے پہلے اس میں دانہ بکھیر دے، وہ دانہ بکھیرنے کے باوجود اپنی زمین سے عمدہ فصل حاصل نہ کر سکے گا۔ کیوں کہ عمدہ فصل ہمیشہ تیار کی ہوئی زمین سے اگتی ہے نہ کہ غیر تیار شدہ زمین سے۔ قرآن کی یہ آیت اس بارہ میں قاطع حیثیت رکھتی ہے کہ کسی قوم پر جب تنزل کا دور آجائے تو اس کو دوبارہ اٹھانے کے لئے کیا کرنا چاہئے۔ ایسی حالت میں وہی کرنا چاہئے جو مردہ (خراب) زمین پر کسان کرتا ہے۔ یعنی فصل بونے سے پہلے زمین تیار کرنا۔ اس قرآنی اصول کی روشنی میں موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے معاملہ کو سمجئے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمان زوال کا شکار ہوئے۔ ان کی حکومتیں ختم ہو گئیں۔ قوموں کے درمیان ان کی عظمت باقی نہیں رہی۔ ماضی کے غالب لوگ حال کے مغلوب لوگ بن گئے۔ قرآن کے مذکورہ اصول کے مطابق ، اب مسلمانوں کو دوبارہ اٹھانے کا کام احیا ء قلب سے شروع ہو نا چاہئے تھا نہ کہ احیا حکومت سے۔ مگر موجودہ زمانہ میں جو مسلم رہنما تھے، انھوں نے تقریباً بلا استثناء یہ کیا کہ احیا حکومت کے نعرہ سے اپنے کام کا آغاز کر دیا۔ قلب کی سطح پر قوم کو زندہ کرنے کی کوشش انھوں نے نہیں کی۔ ہر ایک نے یہ کیا کہ حکومت کی سطح پر کوشش کر کے قوم کی نشاۃ ثانیہ کا خواب دیکھنے لگا۔ خلافت تحریک ، آزادی کی تحریک ، تقسیم ملک کی تحریک ، اس کی نمایاں مثالیں ہیں ۔ دوسری تحریکیں بھی کم وبیش اسی خانہ میں جاتی ہیں۔ ان میں نام کے اعتبار سے یا الفاظ کے استعمال کے اعتبار سے بظاہر فرق نظر آتا ہے۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے ایک اور دوسرے کے درمیان کوئی بنیادی فرق نہیں۔ اس غلطی کے نتیجہ میں مسلم رہنماؤں کا حال اس معمار کا ہو او جو ٹوٹے کھپوں اور بوسیدہ دیواروں کے اوپر چھت کھڑی کرنے کی کوشش کرے ۔ ایسی چھت کبھی قائم نہیں ہو سکتی اور نہ ایسا گھر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page