بابری مسجد کا مسئلہ
Urdu book, p. 182
By Maulana Wahiduddin Khan
صورت میں فریق یا افراد اگر عدالت کا فیصلہ کو نہ مانیں تو پولیس اس بات کی ضمانت ہوتی ہے کہ انھیں ماننے پر مجبور کیا جاسکے۔ مگر بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی کا مسئلہ دو افراد کا مسئلہ نہیں بلکہ دو قوموں کا مسئلہ بن گیا ہے۔ اور جب مسئلہ میں دو پوری قوم شامل ہو جائے، اس میں عدالت کا فیصلہ قوم کی مرضی ہی سے نافذ کیا جاسکتا ہے۔ قوم کی مرضی کے بغیر ایسے فیصلے کا نفاذ ممکن نہیں۔ یہی خاص فرق ہے جس کی بنا پر مسلمانوں کے لئے یہ ممکن ہوا کہ وہ شاہ بانو کیس کے معاملہ میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کو نہ مانیں، اور ان کا نہ ماننا سپریم کورٹ کے فیصلہ کو بے اثر بنادے۔ اگر اس کی حیثیت صرف شخصی معاملہ کی ہوتی تو یہ ناممکن تھا کہ شاہ بانو کے شوہر محمد احمد کے انکار سے ایک عدالتی فیصلہ کا لعدم ہو کر رہ جائے۔ میرے نزدیک اس مسئلہ کا واحد قابل عمل حل یہ ہے کہ دونوں فریق ثالثی (arbitration) کے اصول پر راضی ہو جائیں ۔ دونوں فریق پیشگی طور پر تحریری اقرار نامہ دیں کہ یہ ثالث ( تھرڈ پارٹی) جو بھی فیصلہ دے گا اس کو وہ بلا بحث مان لیں گے۔ فیصلہ کے بعد وہ اس کے خلاف مزید کوئی کارروائی نہیں کریں گے۔ تقریباً چار سال پہلے یہ مسئلہ اس حل کے کنارے پہنچ چکا تھا مگر بعض مسلم لیڈروں کی نا قابل فہم نادانی کی بنا پر وہ عملاً واقعہ نہ بن سکا۔ ایک تاریخی میٹنگ یہ ۲، مارچ ۱۹۸۷ء کی بات ہے۔ نئی دہلی کے وٹھل بھائی پٹیل ہاؤس میں اسی خاص مسئلہ پر ایک خصوصی میٹنگ ہوئی۔ اس میں ہندو سائیڈ اور مسلم سائیڈ دونوں طرف کے ذمہ دار لوگ جمع ہوئے۔ ہندووسائیڈ سے جو لوگ شریک ہوئے، ان میں دوسرے ذمہ داروں کے علاوہ مہنت اور پیداتھ بھی تھے، جورام جنم بھومی کمیٹی یگیہ سمتی کے صدر ہیں اور وشو ہندو پریشد کے ٹکٹ پر ایم پی بھی ہیں۔ مسلم سائیڈ سے جولوگ شریک ہوئے، ان میں سید شہاب الدین صاحب اور دوسرے ذمہ دار حضرات موجود تھے۔ اس میٹنگ میں بھی خصوصی دعوت پر شریک تھا۔ پہلے حسب عادت دونوں فریق اپنا اپنا دعویٰ پیش کرتے رہے اور ایک دوسرے کی بات کا جواب دیتے رہے۔ دعویٰ اور اس کی تردید کا یہ سلسلہ دیر تک جاری رہا۔ آخر میں میں نے کہا کہ یہ طریقہ مسئلہ کو حل کرنے کا نہیں ہے۔ مسئلہ کے حل کی واحد تدبیر یہ ہے کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader