بابری مسجد کا مسئلہ
Urdu book, p. 183
By Maulana Wahiduddin Khan
دونوں فریق ایک تھرڈ پارٹی کو ثالث بنانے پر راضی ہو جائیں اور پیشگی اس بات کا تحریری اقرار کریں کہ یہ تھرڈ پارٹی جو فیصلہ دے گی اس کو وہ منظور کریں گے۔ میں نے کہا کہ اس تھرڈ پارٹی کے لئے سب سے بہتر باڈی مورخین کی ہو سکتی ہے۔ چنانچہ میں نے تجویز پیش کی کہ ہندوستان کے مسئلہ مورخین جنھوں نے انڈین ہسٹری کا باقاعدہ مطالعہ کیا ہو ان کا ایک منتخب بورڈ بنا دیا جائے اور اس کو پورا اختیار دیا جائے کہ وہ تاریخی حقائق کی روشنی میں اپنا قطعی فیصلہ دے۔ وہ جو فیصلہ دے اس کو دونوں فریق بلا بحث مان لیں۔ میری اس تجویز کو ہندو سائیڈ نے کسی بحث کے بغیر پوری طرح مان لیا۔ حتی کہ وہ میری تجویز کے اس جز پر بھی راضی ہو گئے کہ اس بورڈ کے تقرر کو کسی بھی حال میں نظیر نہیں بنایا جائے گا، اور آئندہ کسی اور مسجد یا مساجد کے لئے اس قسم کے باب ہرگز نہیں کھولے جائیں گے۔ مہنت اوید ناتھ نے اس کو اتنا زیادہ پسند کیا کہ انھوں نے کھڑے ہو کر میرے ساتھ تصویر کھنچوائی۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس تجویز کو فائنل کرنے کے لئے جلد ہی دوسری میٹنگ بلائی جائے۔ مگر عین اس وقت ایک" حادثہ " پیش آیا جس نے سارے معاملہ کو بگاڑ دیا۔ وہ یہ کہ جناب سید شہاب الدین صاحب ناقابل فہم طور پر اس کے مخالف ہو گئے۔ وہ اس مخالفت میں اتنا شدید ہوئے کہ تقریباً چیخنے لگے۔ حتی کہ ان کی چیخ پکار میں میٹنگ ختم ہوگئی۔ اس میٹنگ میں جماعت اسلامی کے نمائندہ کے طور پر فضل حسین صاحب مرحوم بھی موجود تھے۔ مگر وہ مکمل طور پر خاموش رہے۔ اگر مسلم نمائندوں نے اس موقع پر ناقابل فہم حد تک نادان دول نہ ادا کیا ہوتا تو یہ مسئلہ ۱۹۸۷ میں ہی ختم ہو جاتا اور ملک اور خاص طور پر مسلمان ان اندوہناک نقصانات سے بچ جاتے جو بعد کو اسی کے نتیجہ میں پیش آئے اور موجودہ سطروں کے لکھنے تک پیش آ رہے ہیں۔ آج بھی اگر اس مسئلہ کا کوئی حل ہے تو یہی ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ مسلمانوں کے لیڈر صاحبان پچھلے تلخ تجربات کے بعد اب اس تجویز کی اہمیت کو محسوس کریں گے اور ذاتی وقار کا خیال کئے بغیر اس کی تائید کریں گے۔ نیز ہندو سائیڈ جو ۲ مارچ ۱۹۸۷ کو اس تجویز کو منظور کر چکی تھی، وہ دوبارہ اس کو مان کر مسئلہ کے حل کا قابل عمل راستہ نکالے گی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader