Urdu book · قیادت نامه

المطففین

Urdu book, p. 191

By Maulana Wahiduddin Khan

المطفقین قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ تم ناپ اور تول کو پورا کرو اور انصاف کے ساتھ ، اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں فساد کرتے نہ پھرو ( ہود (۸۵) جب تم ناپ کرو تو پورا ناپو اور ٹھیک ترازو سے تول کر دو ۔ یہ بہتر طریقہ ہے اور اس کا انجام اچھا ہے ( بنی اسرائیل (۳۵) تم لوگ پورا پورا ناپو اور نقصان دینے والوں میں سے نہ بنو۔ اور سیدھی ترازو سے تولو اور لوگوں کو ان کی چیزوں کو گھٹا کر نہ دو اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ (الشعراء ۸۳ - ۱۸۱) اللہ نے آسمان کو اونچا کیا اور اس نے ترازو رکھ دی کہ تم تولنے میں زیادتی نہ کرو ، اور انصاف کے ساتھ سیدھی ترازو تولو اور تول میں نہ گھٹاؤ (الرحمن ۷-۹) ان آیتوں میں جس چیز سے روکا گیا ہے، وہ قرآن کی زبان میں تطفیف ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر ۸۳ میں اس کی بہت زیادہ سخت الفاظ میں حکم دیتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لئے ، جن کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں سے ناپ کر لیں تو پورا لیں ، اور جب لوگوں کو ناپ کر یا تول کر دیں تو انھیں گھٹا کر دیں۔ کیا ایسا کرنے والے یہ نہیں سمجھتے کہ وہ اٹھائے جانے والے ہیں ، ایک بڑے دن کے لئے ۔ جس دن تمام انسان خداوند عالم کے سامنے کھڑے ہوں گے (التطفیف ۱۔ ۶) ويل للمطفقين کی تشریح مفسر النسفی نے ان الفاظ میں کی ہے کہ وہ لوگ جو انسانوں کے حقوق کو ناپنے اور تولنے میں گھٹا دیتے ہیں (للذین يبخسون حقوق الناس في الكيل و الوزن) اس آیت کا تعلق صرف ان چند افراد سے نہیں ہے جو دکانداری کرتے ہوں اور ترازو میں تول کر کوئی چیز بیچ رہے ہوں ، بلکہ اس کا تعلق تمام انسانوں سے ہے۔ ناپ اور تول سے مراد دراصل انسانی حقوق کی ادائیگی ہے۔ یہاں ترازو کی مثال سے بتايا گیا ہے کہ لین اور دین دونوں برابر رکھو۔ جس طرح تم اپنا حق پورا لینا چاہتے ہو ، اسی طرح دوسروں کو بھی ان کا پورا حق دو ۔ یہ طریقہ نہ اختیار کرو کہ اپنے لئے دوسرا بات اور دوسروں کے لئے دوسرا بات ۔ اس اخلاقی کمزوری کا اظہار سب سے زیادہ اختلاف والے معاملات میں ہوتا ہے۔ ایک شخص

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page