Urdu book · قیادت نامه

المطففین

Urdu book, p. 193

By Maulana Wahiduddin Khan

نہ کرسکیں گے۔ مگر مسلمانوں نے ناقابل فہم نادانی کے تحت یہ کیا کہ وہ اپنے محلہ والی سٹرک پر جمع ہوگئے اور جلوس کو روک دیا۔ اس طرح کئی گھنٹے تک جلوس وہاں رکارہا۔ جب جلوس والے واپسی پر راضی نہ ہوئے تو مسلمانوں نے دوسری نادانی یہ کی کہ اپنے گھروں کی چھتوں سے جلوس پر بم پھینکنے حتی کہ انھوں نے مبینہ طور پر پولیس کو بھی اپنے بم کا نشانہ بنایا۔ یہاں پہنچ کر سارا معاملہ بالکل بدل گیا۔ بم اور پتھراؤ سے پہلے سارا معاملہ انتظام کا معاملہ تھا، اب وہ غصہ اور انتقام کا معاملہ بن گیا۔ اس سے پہلے ایک طرف پولیس تھی اور دوسری طرف جلوس کے ہندو۔ مگر اب پولیس اور ہندو ایک طرف ہوگئے اور مسلمان دوسری طرف۔ جن مسلمانوں کی حیثیت پہلے زیر حفاظت فرشتے کی تھی، ان کی حیثیت اب زیر انتقام فرشتے کی بن گئی۔ پولیس نے اور ہندوؤں نے مشتعل ہو کر مسلمانوں کو مارنا اور توڑ پھوڑ کرنا شروع کر دیا جس کی تفصیل اخبارات میں آچکی ہے۔ جب آدمی غصہ میں آجائے تو وہ اس وقت وہ سب کچھ کرتا ہے جو اس کے بس میں ہو۔ چنانچہ ہندو اور پولیس والے جب غصہ میں آگئے تو انھوں نے وہ سب کچھ کیا جو وہ کر سکتے تھے۔ ۲۲ اکتوبر کے اس فساد پر مسلم رہنماؤں اور مسلم دانشوروں کی طرف سے سیکڑوں " رپورٹیں" اخبارات ورسائل میں آچکی ہیں۔ مگر یہ تمام کی تمام رپورٹیں تطفیف کی مثال ہیں۔ ان میں واقعہ کے نصف ثانی کو بیان کیا گیا ہے ، مگر واقعہ کے نصف اول کا ان نام نہاد رپورٹوں میں کوئی ذکر نہیں۔ جو لوگ اس قسم کی رپورٹیں یا آنکھوں دیکھا حال" بیان کرتے ہیں۔ وہ وہی ہوتے ہیں جو فساد کا واقعہ ہو جانے کے بعد سفر کر کے وہاں پہنچتے ہیں۔ مثلاً فساد کا آغاز اگر ۲۲ اکتوبر کو ہوا اور اس کا سلسلہ کچھ دنوں تک جاری رہا تو ایسے لوگ ہمیشہ فساد کے بعد، مثلاً ۱۰ نومبر کو فسادہ زدہ مقام پر پہنچیں گے ۔ اس وقت جو منظر ان کی آنکھوں کے سامنے ہوگا، بس وہ اسی کو جذباتی انداز میں بیان کرنا شروع کر دیں گے۔ یعنی وہ اپنی رپورٹ ۱۰ نومبر سے شروع کریں گے نہ کہ ۲۲ اکتوبر سے۔ اس قسم کی رپورٹیں یا اس قسم کے بیانات مکمل طور پر تطفیف کی مثال ہیں۔ یہ اپنے آپ کو اخفا، واقعہ کے باٹ سے تولنا ہے اور فریق ثانی کو اظہار واقعہ کے باٹ سے۔ اور قرآن کا فیصلہ ہے کہ جو لوگ تطفیف کا طریقہ اختیار اگر کریں ان کے حصہ میں ویل (خرابی) لکھی جائے نہ کہ اصلاح اور کامیابی۔ پچھلے پچاس برس کی تاریخ قرآن کے ان الفاظ کی تصدیق کرتی ہے۔ اس مدت میں مسلم رہنماؤں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page