Urdu book · قیادت نامه

ایک اقتباس

Urdu book, p. 199

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک اقتباس مختلف بابری مسجد کمیٹیوں کے لیڈر پچھلے تین برس سے مسلسل بابری مسجد کے سلسلہ میں بڑے بڑے بیان دیتے آئے ہیں۔ بلند بانگ دعوے کرتے آئے ہیں۔ اپنے جذباتی بیانات اور زور دار تقریروں سے خوب مسلمانوں کی واہ واہ لوٹ کر قوم کے لیڈر بنتے رہے ہیں۔ ملک کی مختلف سیاسی جماعتوں پر یہ تاثر قائم کرتے رہے ہیں کہ مسلم ووٹ ان کی مٹھی میں ہے۔ وہ جہاں کہیں گے مسلمان ووٹ ڈالے گا۔ وہ مسلم ووٹ کے نام پر اپنا مفاد پورا کرتے ہیں۔ جنھیں ان کے محلے میں بھی کوئی نہیں جانتا تھا راتوں رات مسلمانوں کے لیڈر بن گئے۔ انھوں نے مسلم فوج بنانے کا دعویٰ کیا۔ انھوں نے اجودھیا مارچ کا نعرہ لگایا۔ ان قائدین ملت نے عسکری دستے بنائے ۔ انھوں نے لاکھوں کی تعداد میں حفاظتی دستے اجودھیا بھیجنے کا اعلان کیا۔ آج ہندوستان کے مسلمان اگر یہ سوال کر رہے ہیں کہ یہ مسلم فوج ، یہ شہیری دستے اور یہ حفاظتی دستے کہاں ہیں تو کون سا غلط کر رہے ہیں۔ مگر جب پچھلے برس رام مندر کا شلانیاس ہوا تو ان شہیدمی دستوں کا دور دور تک پتہ نہیں تھا۔ فیض آباد کی ٹھاٹ والی مسجد میں صرف سوا سو ڈیڑھ سو مسلمان جمع تھے۔ اور جب اڈوانی کی رتھ یاترا نکلی تو انھوں نے مسلمانوں پر اپنی بہادری کا سکہ جمانے کے لئے رتھ یاترا رو کنے کا اعلان کیا۔ ان کے اس اعلان سے فتح پوری مسجد کے نائب امام کو ترشول تو لگ گیا مگر اس رتھ یاترا کو روکنے کے لئے چڑیا کا بچہ بھی سامنے نہیں آیا۔ انھوں نے حفاظتی دستے کے تحت بابری مسجد کی حفاظت کے لئے پانچ لاکھ مسلمانوں کو اجودھیا بھیجنے کا اعلان کیا مگر پانچ مسلمان لیڈر اجودھیا تو دور کی بات ہے فیض آباد بھی نہیں پہنچے۔ پچھلے گیارہ ماہ میں بی جے پی والے حکومت کے حمایتی ہونے کے باوجود مسلسل منظم طور پر اجودھیا پر دھوا بولنے اور بابری مسجد میں گھسنے کی تیاری کرتے رہے۔ مگر یہ بابری مسجد کے لیڈر صرف وزیر اعظم وی پی سنگھ سے ملاقاتیں کر کے اور ٹیلیویژن پر ریڈیو پر اپنے بیانات جاری کرا کر خوش ہوتے رہے۔ دوسری طرف مسلمانوں میں اپنی پوزیشن بنانے کے لئے یہ حفاظتی دستے اور شہیری دستے بنانے کے لمبے چوڑے بیانات دیتے رہے۔ اپنے ان خالی خولی بیانات سے انھوں نے صرف اور صرف فرقہ پرست ہندو تنظیموں کو تقویت پہنچانے کا کام کیا۔ مسلم فوج کا خوب ڈھول پیٹا گیا ۔ مسلم فوج نے بہرنگ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page