Urdu book · قیادت نامه

ایک اقتباس

Urdu book, p. 200

By Maulana Wahiduddin Khan

دل، شیو سینا، و شو ہندو پریشد کے وجود کا جواز تو فراہم کیا مگر میرٹھ، بھاگلپور، گونڈا، اجے پور، دہلی اور دوسرے درجنوں فسادات میں ایک مسلمان کی جان و مال کی حفاظت نہیں کر سکے۔ ان کا کھیل صرف اتنا رہا کہ وہ ملک کی اہم سیاسی جماعتوں سے یہ تسلیم کرا لیں کہ یہ مسلم ووٹوں کے واحد ٹھیکیدار ہیں۔ ان کی مرضی کے بغیر کوئی سیاسی جماعت کامیاب نہیں ہوگی۔ انھوں نے نہ تو حکومت سے مسلمانوں کے اقتصادی سماجی و دینی مسائل حل کرنے میں کوئی دل چسپی دکھائی۔ نہ مسلمانوں کو منظم کیا۔ نہ انھیں اعتماد اور حوصلہ دیا۔ نہ ہندو فرقہ پرستوں کا مقابلہ کرنے کے لئے کوئی ٹھوس حکمت عملی بنائی۔ نہ ان کے مفاد میں کوئی دور رس پالیسی مرتب کی۔ جب تک یہ عناصر اقتدار سے دور رہے، جذباتی تقریریں کرکے مسلمانوں کو ٹکراؤ کے راستے پر چلاتے رہے۔ ان کی اسی ٹکراؤ کی پالیسی کا خمیازہ کمزوروں مسلمانوں کو میرٹھ، ملیانہ، بھاگلپور، بدایوں، مکराना، دہلی، بارہ بنکی، الہ آباد، حیدر آباد، اندور، اجے پور، گونڈا، متھرا، کانپور اور درجنوں فسادات کی شکل میں بھگتنا پڑا۔ آج بھی ملک کے درجنوں شہر میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اور آئندہ بھی بھگتنا پڑے گا۔ پرانی کہاوت ہے کہ چھیڑ و مت اور چھیڑو تو چھوڑ و مت۔ لیکن بغیر نتائج کی پروا کئے یہ قائدین و وقتی تالیاں بجوانے اور لیڈری چمکانے کے لئے ہندو فرقہ پرستوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے رہے۔ انھیں اپنی مسلم دشمنی کا جواز فراہم کرتے رہے۔ لیکن ٹکراؤ کا اعلان کرنے کے بعد، حالات کو بگاڑنے کے بعد خود ہمیشہ پیچھے ہٹ گئے۔ ان کی اس عاقبت نا اندیشانہ پالیسی کا خمیازہ عام مسلمانوں کو بھگتنا پڑا۔ آج بھی بھگتنا پڑ رہا ہے اور ابھی برسوں بھگتنا پڑے گا۔ ۴۷ کے بعد ہندوستان میں مسلمان کبھی اتنا غیر محفوظ نہیں رہا جتنا کہ آج ہے۔ آج مسلمانوں کا جان و مال ہی نہیں ان کی مسجدیں، درگا ہیں، قبرستان ان کا دین ایمان سب خطرے میں ہے۔ آج مسلمان بسوں اور ٹرینوں میں سفر کرتے ہوئے ڈر رہے ہیں۔ آج مسلمان زبردست خوف و ہراس کا شکار ہیں۔ اس کے لئے جہاں ملک کی سیاسی جماعتیں اور ہندو فرقہ پرست تنظیمیں ذمہ دار ہیں وہاں بابری مسجد کے نام پر لیڈری چمکانے والے یہ قائدین ملت بھی برابر کے ذمہ دار ہیں۔ آج اگر عام مسلمانوں کا اعتماد ان نام نہاد مسلم لیڈروں پر سے اٹھ گیا ہے تو کیا غلط ہے۔ آج مسلمان مایوسی کے ایسے اندھیرے میں گھر گیا ہے جہاں اسے امید کی کوئی کرن نظر نہیں آرہی ہے۔ مگر مسلمان کے لئے مایوسی حرام ہے۔ مسلمان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page