تعمیر کے نام پر تخریب
Urdu book, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
تعمیر کے نام پر تخریب ۱۹۶۶ء کا زمانہ شمالی ہندوستان کی مسلم سیاست میں بڑے جوش وخروش کا زمانہ تھا۔ مولانا سید ابوالحسن علی ندوی اس سیاست کے ہیرو تھے۔ ان پر اور ان کے ساتھیوں پر اچانک یہ راز منکشف ہوا کہ وہ اپوزیشن پارٹیوں کے انتخابی اتحاد میں شریک ہو کر حکمراں کانگریس کو اقتدار سے ہٹا سکتے ہیں اور اس طرح ملک میں اپنے لئے با عزت زندگی کا حق وصول کر سکتے ہیں۔ نان کانگریسزم کی اس منفی سیاست پر مولانا موصوف کو اتنا یقین تھا کہ انھوں نے اپنی شخصیت کا پورا وزن اس کے خانہ میں ڈال دیا۔ انھوں نے آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے ایک اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا: " گذشتہ دو ماہ میں ہم نے کیا حاصل کیا ہے۔ جواب یہ ہے کہ ہم نے اپنے آپ کو پايا ہے۔ اور یہ بہت بڑی بات ہے۔ کوئی کھوئی ہوئی امت اگر خود کو تلاش کرلے تو یہ کولمبس کے نئی دنیا کی تلاش کرنے کے کارنامہ سے بھی زیادہ عظیم ہے ( ندائے ملت ۳۱ مارچ ۱۹۶۷ء) جھوٹے فخر کی یہ غذا مسلمانوں کی نفسیات کے نہایت حسب حال تھی۔ چنانچہ بھیٹر کی بھڑاس نعرہ پر ٹوٹ پڑی جس میں سمندروں کو عبور کرنے کی مصیبت اٹھائے بغیر کولمبس سے نہ یادہ بڑی دریافت صرف دو ماہ میں حاصل ہو رہی تھی۔ تاہم اس سطحی سیاست پر میرا دل بہت دکھی تھا۔ میں نے اسی زمانہ میں مولانا سید ابوالحسن علی ندوی سے خط و کتابت کی ۔ میں نے لکھا کہ میں آپ سے مل کر گفتگو کرنا چاہتا ہوں تا کہ یہ معلوم کروں کہ آپ کے اس ارشاد کا مطلب کیا ہے کہ " ہم نے اپنے آپ کو پالیا ہے!" مگر مولانا موصوف نے ملاقات کا وقت نہیں دیا۔ انھوں نے لکھا کہ اس سلسلے میں ان کے قریبی رفتا ر مولانا محمد منظور نعمانی اور ڈاکٹر عبد الجلیل فریدی سے گفتگو کروں۔ ۱۵ اپریل ۱۹۶۷ء کو میں نے لکھنؤ میں مولانا محمد منظور نعمانی سے ملاقات کی۔ میں نے دلائل کی روشنی میں بتایا کہ آپ حضرات کی موجودہ سیاست سراسر لایی سیاست ہے۔ اس کا کوئی فائدہ مسلمانوں کو ملنے والا نہیں۔ بلکہ تقریباً یقینی ہے کہ اس قسم کے اقدام کے بعد حالات اور نہ یادہ بگڑ جائیں۔ مگر کھلے کھلے دلائل کے باوجود وہ اپنی ضد پر قائم رہے اور اپنے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader