Urdu book · قیادت نامه

تعمیر کے نام پر تخریب

Urdu book, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

سیاسی مسلک سے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہوئے ۔ بالآخر میں کچہری روڈ ( لکھنؤ ) کی مسجد سے اس طرح اٹھا کہ میری آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب رواں تھا اور میری زبان پر عربی کا یہ شعر تھا : اذا کان الغراب رئیس قوم سیهديهم الی دارالبوار اس کے بعد ، ۱ اپریل ۱۹۶۷ کو ڈاکٹر عبد الجلیل فریدی ( ۱۹۱۷ ۔ ۱۹۱۳ ) سے ان کی لکھنؤ کی قیام گاہ (حضرت گنج) میں ملاقات ہوئی ۔ میں نے کہا کہ اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ مل کر بالفرض آپ کانگریس کو اقتدار سے ہٹانے میں کامیاب ہو جائیں تو اس سے مسلمانوں کی قسمت ہرگز بدلنے والی نہیں۔ کیوں کہ اس کے بعد جس کو اقتدار ملے گا وہ آپ نہیں ہوں گے بلکہ کانگریس ہی کی طرح کے دوسرے لوگ ہوں گے ۔ یہ گفتگو پون گھنٹہ تک جاری رہی ۔ جب وہ میرے دلائل کا جواب دینے سے عاجز ہو گئے تو انھوں نے یہ کہہ کر گفتگو ختم کر دی ؛ اسٹیٹس کو (حالت موجودہ) میں چینج (تغیر) تو ہوگا ۱۹۶۷ کے الیکشن کے نتیجہ میں اسٹیٹس کو میں چینج ہوا مگر اس کا مطلب صرف یہ تھا کہ کانگریسی عناصر کی جگہ جن سنگھی عناصر حکومت میں غالب آگئے ۔ ’’نئی دنیا کی دریافت‘‘ نئی سیاسی خندق میں گرنے کے ہم معنی بن گئی ۔ شاید نادانی کی یہی وہ قسم ہے جس کے بارہ میں انگریزی میں یہ کہاوت بنی ہے کہ ۔ بیوقوف لوگ وہاں بھاگتے ہیں جہاں فرشتے قدم رکھنے سے گھبراتے ہیں ؛ Fools rush in where angels fear to tread ’’اسٹیٹس کو میں چینج ‘‘کی اس منفی سیاست میں مسلمان پچھلے سو سال سے مبتلا ہیں۔ وہ پر شور سیاست چلاکر ایک برائی کو ہٹاتے ہیں اور اس کا نتیجہ صرف یہ ہوتا ہے کہ نئی شديد تر برائی اس کی جگہ لے لیتی ہے ۔ اس قسم کی سیاست اسلامی نقطہ نظر سے سراسر باطل ہے۔ ایک فساد کو دوسرے فساد سے تبدیل کرنا شیطان کے کارندوں کا طریقہ ہے نہ کہ خدا کے پیغمبروں کا۔ پاکستان میں مخصوص اسباب کے تحت اس قسم کی تزریبی سیاست کے لئے خصوصی مواقع موجود تھے ۔ چنانچہ پچھلے تقریبا ہم سال سے یہ ملک اس قسم کی بے معنی سیاست کا اڈہ بنا ہوا ہے ۔ یہاں بار بار یہ واقعہ ہو رہا ہے کہ عہد ساز مفکرین اکھاڑ پچھاڑ کے ذریعہ ایک سیاسی تبدیلی لاتے ہیں ، صرف اس لئے کہ بعد کو یہ اعلان کریں کہ نیا دور پچھلے دور سے بھی زیادہ برا ثابت ہوا ہے۔ مزید یہ کہ سطحیت کے اس دور نے لوگوں کو موقع دے دیا ہے کہ وہ عملاً محرک اسلام کا کردار ادا کریں۔ اس کے باوجود اپنے معتقدین کے درمیان وہ معمار اسلام کے پرفریب سے یاد کئے جاتے رہیں ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page