تعمیر کے نام پر تخریب
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کی مذکورہ قرارداد اپنے صفحات میں نقل کی ہے۔ اسی کے ساتھ اس نے ایک نوٹ لکھا ہے جس میں یہ الفاظ درج ہیں : "یہ اللہ ہی کے علم میں ہے کہ وہ امت مسلمہ کو ان سربراہوں، لیڈروں اور حکمرانوں سے کب نجات بخشے گا جو عملی نفاق میں مبتلا ہیں۔" ماہنامہ زندگی نے اس صورت حال کی ذمہ داری نہایت معصومانہ انداز میں " حکمرانوں " پر ڈالی ہے حالاں کہ اس کی ذمہ داری خود سید ابو الاعلیٰ مودودی اور جماعت اسلامی پر عائد ہوتی ہے۔ یہ لوگ " اسٹیٹس کو میں چینج " کو کام سمجھتے رہے ۔ حالاں کہ نتیجہ کے اعتبار سے وہ فساد اور تخریب کے سوا اور کچھ نہ تھا حقیقت یہ ہے کہ زیادہ قرین انصاف بات یہ تھی کہ ماہنامہ زندگی لکھتا کہ " یہ اللہ ہی کے علم میں ہے کہ وہ امت مسلمہ کو جھوٹے اسلامی رہنماؤں سے کب نجات بخشے گا۔" اس کے برعکس اس نے یہ کیا کہ ساری ذمہ داری دوسروں کے اوپر ڈال دی۔ افسوس کہ لوگوں میں اتنی جرات بھی نہیں کہ وہ سیدھی طرح اپنی غلطی کا اعتراف کر لیں۔ وہ اپنی کھلی کھلی حماقتوں کا الزام بھی دوسروں کے سر پر ڈالنا چاہتے ہیں، صرف اس لئے کہ ان کا فخر ان سے نہ چھنے۔ اپنے جس قائد کو انھوں نے بطور خود عہد ساز مفکر کا لقب دے رکھا ہے وہ بدستور اپنی جگہ پر باقی رہے۔ آپ کانٹے دار درخت کو پھل دار درخت بتا کر اس کا بیج بوئیں اور جب اس سے کانٹوں کا درخت ظاہر ہو تو اس کی ساری ذمہ داری زمین پر ڈال دیں تو یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ یہ اپنی نااہلی کا الزام خدا کو دینا ہے۔ اگر چہ یہ بے حد سخت بات ہے مگر اس میں شک نہیں کہ موجودہ زمانہ میں ہمارے لیڈر ساری دنیا میں یہی کام انجام دے رہے ہیں۔ وہ اسلام کے نام پر ایک ہنگامہ اٹھاتے ہیں اور جب قانون قدرت کے تحت ان کی ہنگامہ آرائیوں کا الثانیجہ سامنے آتا ہے تو فوراً اس کی تمام ذمہ داری دوسروں کے اوپر ڈال دیتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ ایسا کہہ کر وہ خدا کی سچائی کو شبہ کرنا چاہتے ہیں نہ کہ کسی انسان کی سچائی کو۔ کیوں کہ جو نتیجہ برآمد ہوا ہے وہ براہ راست قدرت کے قانون کی بنا پر برآمد ہوا ہے نہ کہ حقیقہ کسی انسان کی بنا پر۔ کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو خدا کی دنیا میں خود اپنی مرضی کی دنیا بنانا چاہتے ہیں۔ وہ اپنے ٹھنڈے کو شاداب درخت کا نام دے رہے ہیں۔ وہ اپنے لیے نور کے پر روشن چراغ کا لیبل لگا کر خوش ہیں۔ وہ اپنی جھوٹی بڑائی کو ہر حال میں باقی رکھنا چاہتے ہیں خواہ اس کی وجہ سے خدا کی بڑائی مجروح ہو جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader