Urdu book · قیادت نامه

تعمیر کے نام پر تخریب

Urdu book, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

حیرت زدہ کر دیا ہے۔ یونیتیوں کے انتخاب بخیر و خوبی انجام پائے ابھی دو ماہ بھی نہیں ہوئے تھے کہ بغیر کسی وجہ جواز یو نیتیوں اور طلبہ تنظیموں پر پابندی لگا دی گئی اور اس اقدام کے خلاف تعلیمی اداروں کے اندر بھی احتجاج کے سارے دروازے طلبہ پر بند کر دیئے گئے۔ اس کے بعد ظلم و زیادتی کا ایسا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے جس نے بھٹو اور کھر کے دور کو بھی مات کر دیا ہے۔ طلبہ کے منتخب نمائندوں کو کالج اور ہوسٹلوں سے اخراج پر طلبہ کا احتجاج بالکل فطری امر تھا۔ اس پر سولہ سترہ سال کے لڑکوں کو ننگا کرکے پیٹا گیا ہے۔ ان کو لاٹھیوں اور دوسرے اسلحہ سے زدو کوب ہی نہیں کیا گیا ہے، ان کے ہاتھوں سے ناخن نوچے گئے اور ان کے جسم کے نازک حصوں کو جلتی موم بتیوں اور سگریٹ لائٹر سے جلایا گیا ہے۔ ان کو ہتھکڑیاں اور بیڑیاں پہنا کر کئی کئی دن اس طرح رکھا گیا ہے کہ وہ کروٹ بھی نہیں لے سکتے تھے۔ ان کو نماز تک پڑھنے کی اجازت نہ دی گئی۔ اور نمازی در خواست پر ان کی پٹائی کے علاوہ نہایت غلیظ گالیوں کی بوچھاڑ کی گئی۔ صرف طلبہ ہی نہیں، ان کے بہن بھائی اور بوڑھے والدین تک کو گرفتار کر کے تھانوں میں محبوس رکھا گیا۔ اور ان کے باپوں ہی کو نہیں ماؤں کو بھی زدو کوب کیا اور غلیظ گالیوں سے نوازا گیا ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو کوڑوں کی سزائیں دی گئی ہیں اور حکومت کے ذمہ دار ترین افراد کو توجہ دلانے اور ان حقائق سے آگاہ ہونے کے باوجود یہ سلسلہ جاری ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب یہ حکومت ظلم و ستم کے ہر حربے کو استعمال کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ اور اپنے پیش رو جابر و ظالم حکمرانوں کے انجام سے کوئی سبق سیکھنے کے لئے تیار نہیں ہے۔۔۔ اقتدار سے بڑھ کر نا پائیدار کوئی شے نہیں ہے۔ یہ کرسی جس پر صدر ( ضیاء الحق) صاحب کو اس قدر بھروسہ ہے، ان کے پیشرو کو بھی آخری لمحہ تک انتہائی مضبوط نظر آتی تھی۔ اس لئے ہم ان سے یہ کہتے ہیں کہ وہ کرسی پر تکیہ کرنے کے بجائے عدل و انصاف کا راستہ اختیار کریں۔“ (زندگی، جون ۱۹۸۱) مارچ ۱۹۷۷ کے الیکشن میں بھٹو پارٹی کو زیر دست کامیابی حاصل ہوئی۔ مگر سید ابوالاعلیٰ مودودی اور جماعت اسلامی نے اس کو تسلیم نہیں کیا اور مخالف پارٹیوں کے ساتھ مل کر بھٹو حکومت کے خلاف ایجی ٹیشن شروع کیا جو نونڑ یعور تک جا پہنچا۔ ان حالات نے فوجی افسروں کو موقع دے دیا۔ اور وہ بھٹو کو گرفتار کر کے جولائی ۱۹۷۷ میں حکومت پر قابض ہو گئے۔ اب اگر مذکورہ قرار داد کے مطابق پاکستان کی فوجی حکومت ظالم ہے تو اس سے بڑے ظالم وہ لوگ ہیں جن کی جھوٹی سیاست نے اس ظالم حکومت کو بر سر اقتدار آنے کا موقع دیا۔ جماعت اسلامی ہند کے سرکاری ترجمان ماہنامہ زندگی (جون ۱۹۸۱) نے جماعت اسلامی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page