Urdu book · قیادت نامه

احتجاج بے فائدہ

Urdu book, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

فتنوں کی جڑ ہمیشہ کے لیے کٹ جائے ۔ ملّت کی کہانی یہ دو مثالیں محض منفرد مثالیں نہیں ۔ یہی موجودہ مسلمانوں کی پوری کہانی ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی وہ اصل کمزوری کیا ہے جس نے ان کو موجودہ زمانہ میں بربادی سے دوچار کر رکھا ہے ۔ وہ پچھلی نصف صدی سے صرف ایک ہی کام کر رہے ہیں ۔ دوسروں کو نشانہ بنا کر ان کے خلاف ہنگامہ آرائی کرنا ۔ وہ اپنی داخلی اصلاح اور اپنے اندرونی استحکام کے میدان میں کوئی حقیقی کام انجام نہ دے سکے ۔ قرآن کا یہ فیصلہ (آل عمران ۱۲۰) ہے ، اور تاریخ اس کی تصدیق کرتی ہے کہ جب بھی کوئی خارجی طاقت کسی گروہ کو نقصان پہنچائے تو یہ درحقیقت خود نقصان پذیر گروہ کی داخلی کمی کی بنا پر ممکن ہوتا ہے ۔ خربوزے کا کٹنا چھری کی سنگ دلی سے زیادہ خربوزے کی اپنی کمزوری (Vulnerability) کا نتیجہ ہے ۔ چنانچہ تمام عقل مند لوگ ہمیشہ یہی کرتے ہیں کہ جب وہ کسی خارجی عنصر کی طرف سے کسی نقصان سے دوچار ہوتے ہیں تو فورا وہ اپنے کمزور پہلو (Vulnerable point) کی تلاش میں لگ جاتے ہیں ، تاکہ اس کی اصلاح کر کے خارجی زیادتیوں کے خلاف بند بنا سکیں ۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ انتہائی نادانی کے ساتھ صرف دوسروں کے خلاف چیخ پکار کرتے رہتے ہیں ۔ وہ اپنی داخلی کمیوں کو درست کرنے کی کبھی کوشش نہیں کرتے ۔ یہی واحد وجہ ہے جس کی بنا پر اب تک ان کے احوال درست نہ ہوسکے ۔ اس معاملہ میں پوری مسلم ملّت نے حبل اللہ کو کھو دیا ہے ۔ وہ اسلام کی تعلیم سے بہت دور جا پڑے ہیں ۔ گہرائی کے ساتھ دیکھے ، تو موجودہ مسلمان سب کے سب دو طبقوں میں بٹے ہوئے ہیں ۔ ایک وہ جنھوں نے احتجاجی سیاست کو بطورِ قیادت پیشہ کے اختیار کر رکھا ہے ۔ دوسرے وہ لوگ جو کلی یا جزئی طور پر اس قسم کی سیاست سے الگ ہیں ۔ تاہم وہ پہلے طبقہ کے خلاف کھل کر نگیر نہیں کرتے ۔ وہ ان پر مشخص اور متعین تنقید نہیں کرتے ۔ اور اگر بالفرض کبھی کچھ کہتے ہیں تو ان کا یہ کہنا انھیں اس سے نہیں روکتا کہ وہ حدیث کے الفاظ میں ، اس کے اکلیل اور خلیط

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page