قومی اسلام
Urdu book, p. 37
By Maulana Wahiduddin Khan
کی صورت میں نظر آتی تھی ۔ یہ تجزیہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی حقیقت کو پوری طرح بے نقاب کر رہا ہے ۔ موجودہ زمانہ کا مسلمان قرآن کی پیداوار نہیں ، وہ تاریخ کی پیداوار ہے ۔ اس کا سرمایہ قومی فخر ہے نہ کہ قرآنی حقیقتوں کی دریافت ۔ موجودہ مسلمان دوسری قوموں کی طرح ایک قوم ہیں نہ کہ وہ امت جو خدا اور رسول کی بنیاد پر فکری اور روحانی انقلاب کے ذریعہ ظہور میں آئی ہو ۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی یہ حالت اتنی عام ہے کہ اس میں ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں ۔ ایک ہی رنگ ہے جس میں تمام مسلمان رنگے ہوئے ہیں ، خواہ وہ ان کے چھوٹے ہوں یا ان کے بڑے ۔ وہ ان کے پڑھے لکھے لوگ ہوں یا بے پڑھے لکھے لوگ ۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں ۔ یہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی تمام خرابیوں کی اصل جڑ ہے ۔ موجودہ مسلمانوں کو فخر والا اسلام ملا ، انھیں تواضع والا اسلام نہیں ملا ۔ بالفاظِ دیگر ، انھوں نے تاریخ کو پایا مگر انھوں نے خدا کو نہیں پایا ۔ ایسی حالت میں ان کے اندر وہ صفات کیسے پیدا ہو سکتی تھیں جو صرف اس انسان یا اس گروہ میں پیدا ہوتی ہیں جو خدا کو اس طرح پاتے کہ وہ اس کے پڑوس میں اپنے صبح و شام گزارنے لگے ۔ مسلمانوں کی اسی نفسیات کا یہ نتیجہ ہے کہ ہر معاملہ میں ان کا رویہ قومی رویہ بن کر رہ گیا ہے ۔ اپنے رسول میں انھیں فخر و مباہات کا سامان ملتا ہے مگر اس میں انھیں اطاعت و پیروی کا سامان نہیں ملتا ۔ ان کا اسلام انھیں لڑائی جھگڑا سکھاتا ہے مگر وہ انھیں صبر اور اعراض کی تعلیم نہیں دیتا ۔ وہ قرآن وسنّت میں انتقام کا سبق پا لیتے ہیں مگر وہ اس کے اندر عفو و درگذر کا سبق نہیں پاتے ۔ جہاد کا یہ مطلب تو ان کی سمجھ میں آتا ہے کہ دوسری قوموں کو اپنا حریف بنا کر ان سے لامتناہی جنگ چھیڑ دی جائے ، مگر جہاد کا یہ مطلب سمجھنے سے وہ معذور رہتے ہیں کہ دوسری قوموں کو خدا کے دینِ رحمت کی طرف مائل کرنے کے لیے ان کی زیادتیوں کو یک طرفہ طور پر برداشت کیا جائے ۔ دنیا میں کامیابی کے لیے اعتراف اور مفاہمت اور صبر اور اعراض کی ضرورت ہوتی ہے مگر فخر پسند مسلمانوں کو اس قسم کا رویہ اپنے شایانِ شان نظر نہیں آتا ۔ اس لیے وہ ان کو اختیار بھی نہیں کر پاتے ۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader