قومی اسلام
Urdu book, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
قومی اسلام موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی نفسیاتی حالت بیان کرنا ہو تو اس کے لیے مولانا ابوالکلام آزاد کا قول موزوں ترین ہو گا ۔ انھوں نے ایک بار کہا تھا : میں مسلمان ہوں اور مجھے فخر ہے کہ میں مسلمان ہوں مولانا ابوالکلام آزاد کا یہ جملہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی صحیح ترین تصویر ہے۔ مگر ان کی اسی صحیح تصویر میں ان کے المیہ کی پوری داستان بھی چھپی ہوئی ہے۔ مذکورہ فقرے پر غور کیجئے ۔ "مسلمان" کے لفظ کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس سے مراد قرآنی انسان ہو۔ اگر اس سے قرآنی انسان مراد لیا جائے تو اس سے وہ انسان مراد ہو گا جو اللہ سے ڈرنے والا ہو۔ مگر مذکورہ فقرہ کو اس معنی میں نہیں لیا جا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قرآنی مفہوم کے اعتبار سے یہ فقرہ بالکل لغو ہے۔ اس کی لغویت کو نہایت آسانی کے ساتھ اس وقت سمجھا جا سکتا ہے جب کہ اس کے الفاظ کو بدل دیا جائے۔ آپ "مسلمان" کی جگہ "اللہ سے ڈرنے والا" رکھ دیجئے اور پھر اس کو اس طرح کہیے : میں اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور مجھے فخر ہے کہ میں اللہ سے ڈرنے والا ہوں دیکھیے، لفظ کو بدلتے ہی یہ فقرہ بالکل بے معنی معلوم ہونے لگا۔ کوئی بھی ایسا شخص نہیں جو واقعۃ اللہ سے ڈرتا ہو اور وہ اپنی زبان سے یہ الفاظ ادا کرے۔ کیوں کہ اللہ کا ڈر آدمی کے اندر تواضع پیدا کرتا ہے نہ کہ فخر۔ اس سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد کا مذکورہ فقرہ قرآنی مفہوم میں نہیں ہے۔ وہ یقینی طور پر کسی اور مفہوم میں ہے۔ یہ دوسرا مفہوم کیا ہے۔ یہ قومی اور تاریخی مفہوم ہے۔ اس فقرہ میں "مسلمان" کا لفظ اس قوم یا اس نسل کے ایک فرد کے لیے بولا گیا ہے جو ایک خاص تاریخ سے وابستہ ہے۔ جس کے اسلاف نے ملک فتح کیے۔ بڑی بڑی عمارتیں بنائیں۔ شاندار تمدن پیدا کیا۔ دنیا میں اپنی سیاسی اور مادی عظمت قائم کی۔ اس دوسرے مفہوم کے اعتبار سے دیکھیے تو مذکورہ فقرہ بالکل درست نظر آئے گا۔ اس دوسرے مفہوم میں لینے کی صورت میں اس فقرہ کی وہ لغویت ختم ہو جائے گی جو پہلے مفہوم میں لینے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader