Urdu book · قیادت نامه

آزمودہ حل

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ زمین کس کی ہے اور کس کی نہیں ہے۔ ان لوگوں نے اصولی طور پر اس سے اتفاق کیا۔ اس طرح جب مذکورہ مسلمان نے جن سنگھی لیڈروں سے یہ اقرار کرا لیا کہ زمین کا مسئلہ کاغذ کو دیکھ کر طے ہوتا ہے تو اس کے بعد انھوں نے کہا کہ اب میں اس مسئلہ میں خود آپ لوگوں کو جج بناتا ہوں۔ میرے پاس جو کاغذات ہیں وہ میں آپ کو دے رہا ہوں۔ ٹھیکیدار صاحب کے پاس جو کاغذات ہیں وہ آپ ان سے لے لیں۔ اور دونوں کو لے کر اطمینان کے ساتھ گھر جائیں۔ تمام کاغذات کو دیکھ کر آپ خود فیصلہ دیدیں۔ اور میں پیشگی طور پر آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آپ جو فیصلہ کریں گے وہ مجھ کو بلا شرط منظور ہو گا۔ اب جن سنگھی لیڈروں کا موڈ بدل گیا۔ ہندو ٹھیکیدار نے مذکورہ مسلمان کی جو تصویر بتائی تھی، عملی تجربہ میں انھوں نے ان کو اس سے بالکل مختلف پایا۔ جن سنگھی لیڈروں کی رہنما اب تک ہندو ٹھیکیدار کی غلط رپورٹ تھی، اب ان کا رہنما ان کا وہ ضمیر بن گیا جو خدا نے ان کے سینہ کے اندر پیدا کیا تھا۔ چنانچہ وہ کاغذات کو لے کر دفتر سے باہر آئے اور ہجوم سے کہا کہ آپ لوگ اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں۔ "میاں صاحب" نے فیصلہ خود ہمارے ہاتھ میں دیدی ہے۔ ہم سوچ کر اس معاملہ کا فیصلہ کریں گے۔ اس کے بعد جو ہوا وہ یہ کہ ان لوگوں نے کاغذات دیکھنے کے بعد مکمل طور پر مذکورہ مسلمان کے حق میں اپنا فیصلہ دیدیا۔ یہ واقعہ ۱۹۶۵ کا ہے اور اتر پردیش کے ایک شہر سے تعلق رکھتا ہے۔ اس واقعہ کے تمام اہم کردار آج بھی زندہ موجود ہیں۔ کوئی شخص تصدیق کرنا چاہے تو میں اس کا نام اور پتے دیدوں گا، وہ اصل مقام پر جا کر اس کی مکمل تصدیق حاصل کر سکتا ہے۔ حال میں بابری مسجد (ایودھیا) اور عیدگاہ (مھترا) وغیرہ کے مسائل پیدا ہوئے تو مجھ کو بار بار مذکورہ واقعہ یاد آتا رہا۔ خیال ہوا کہ کاش مسلمانوں کے لیڈر سنجیدہ اور حقیقت پسند ہوتے تو وہ اس طرح کے قومی مسائل میں کبھی وہی تدبیر اختیار کرتے جو مذکورہ مسلمان نے اپنے ذاتی مسئلہ میں اختیار کی اور صد فی صد کامیابی حاصل کی۔ اگر ایسا کیا گیا ہوتا تو یقینی طور پر یہ مسائل نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ حل ہو جاتے۔ اور آئندہ کے لیے اس قسم کے نئے مسائل پیدا ہونے کا دروازہ بھی بند ہو جاتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page