Urdu book · قیادت نامه

آزمودہ حل

Urdu book, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر مسلمانوں کے نادان لیڈروں کا طریقہ یہ ہے کہ جب بھی اس طرح کا کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو وہ فوراً اس کو جوابی ہنگامہ آرائی کا عنوان بنا لیتے ہیں۔ پرجوش تقریریں کرنا اور سڑکوں پر جلوس اور لغوروں کے مظاہرے کرنا، یہی آخری بات ہے جو ان کی عقل انہیں بتاتی ہے۔ یہ طریق کار ممکن ہے کہ لیڈروں کی اپنی لیڈری کے لیے مفید ہو، مگر اصل مسئلے کی نسبت سے وہ برعکس نتیجہ پیدا کرنے والا (counter-productive) ہے۔ ایک مسئلہ جو ابتداً محض چند مفاد پرست افراد کا مسئلہ تھا، مظاہراتی طریق کار اختیار کرنے کے بعد وہ قومی مسئلہ کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ وہ دونوں گروہوں کے لیے ساکھ (prestige) کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ ملک کے سیاسی حکمراں اگر کچھ کر سکتے تھے تو وہ بھی اب کرنے سے رک جاتے ہیں۔ کیوں کہ انھیں ڈر ہوتا ہے کہ اگر انھوں نے کوئی انقلابی قدم اٹھایا تو اس کی انھیں یہ قیمت دینی پڑے گی کہ الیکشن کے موقع پر وہ اس فرقہ کے ووٹوں سے محروم ہو جائیں جس کے خلاف انھوں نے اپنا فیصلہ دیا ہے۔ اس کے برعکس اگر مسلمان لیڈر یہ کرتے کہ وہ سنجیدگی اور خاموشی کے ساتھ اعلیٰ سطح کے لوگوں سے ملاقات کرتے اور ان کے سامنے یہ تجویز رکھتے کہ دونوں فرقوں کے باخبر اور قابلِ اعتماد افراد پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے اور وہ تاریخی حقائق کا بے لاگ جائزہ لے کر فیصلہ کرے۔ نیز جرأت مندانہ طریقہ اختیار کرکے وہ مذکورہ مسلمان کی طرح یہ بھی کہہ دیتے کہ کمیٹی جو فیصلہ کرے گی اس کو ہم بلا شرط مان لیں گے۔ مسلمان لیڈر اگر یہ طریقہ اختیار کرتے تو یقینی طور پر مسئلہ اب تک ختم ہو چکا ہوتا۔ اس رائے کا درست ہونا اس واقعہ سے بھی ثابت ہے کہ متعدد ہندو صاحباں نے اس معاملہ میں کھل کر اپنی قوم کے فرقہ پرستوں کی تردید کی ہے۔ اور اس موضوع پر نہایت منصفانہ مضامین لکھے ہیں۔ یہ مضامین نئی دنیا (دہلی) تعمیر حیات (لکھنو) نقیب (پٹنہ) اور دعوت (دہلی) وغیرہ میں نقل ہوئے ہیں۔ ان اخبارات کی ۱۹۸۶ء کی منائل میں ان مضامین کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر ان مضامین سے سبق لیا جائے تو وہ راقم الحروف کی تجویز کی معنویت ثابت کرنے کے لیے بالکل کافی ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page