Urdu book · قیادت نامه

آزمودہ حل

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

یہاں میں اس نوعیت کی صرف ایک مثال دینا چاہتا ہوں۔ یہ ایک مفصل خط ہے جو نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا (۲۱ اکتوبر ۱۹۸۶) میں چھپا ہے۔ اس خط کے نیچے ۱۲ آدمیوں کے نام درج ہیں۔ یہ سب کے سب اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ ہیں اور ان میں سے ۱۱ افراد ہندو فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ خط نہایت منصفانہ ہے۔ وہ اگلے صفحہ پر اصل الفاظ میں پورا نقل کیا جاتا ہے۔ اعلیٰ ترین سطح کے ان ہندو دانشوروں نے اپنے خط میں سخت تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اخبار ٹائمز آف انڈیا اپنی خبروں اور اپنے ادارتی نوٹ کو فرقہ وارانہ رنگ دے رہا ہے ۔ اس کی ایک مثال متھرا کی عیدگاہ کے بارہ میں اس کی رپورٹ ہے جس کو "اورنگ زیب کے بعد کرشنا کی جائے پیدائش" کے عنوان سے شائع کیا گیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ قدیم کیشو مندر کو راجہ بیر سنگھ دیو بندیلی نے جہاں گیر کے زمانہ میں بنوایا تھا، اورنگ زیب نے اس مندر کو گرا کر عید گاہ تعمیر کرائی۔ گمان غالب یہ ہے کہ اس نے سیاسی بنیاد پر ایسا کیا۔ کیونکہ متھرا کے علاقہ میں بندیلا اور جاٹ اس کے باغی ہو گئے تھے۔ اس سلسلہ میں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بے شمار دوسرے مندروں کو اورنگ زیب نے بالکل نہیں چھوا، حتیٰ کہ کئی نئے مندر اسی کے زمانہ میں بنوائے گئے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ خود یہ کیشو مندر بدھ مذہب کے عبادت خانہ کو توڑ کر بنایا گیا تھا۔ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ یہ تاثر دیتی ہے کہ یہ مقام کرشنا کی جنم بھومی ہے۔ یہ بات اس وقت بہت عجیب معلوم ہوتی ہے جب اس حقیقت کو دھیان میں رکھا جائے کہ خود کرشنا کا وجود تاریخی طور پر مشتبہ ہے۔ یہی معاملہ ایودھیا کی رام جنم بھومی کا ہے۔ یہ بات جائزہ طلب ہے کہ کیا تاریخی طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ جگہ رام کی جائے پیدائش تھی۔ یہ بات بھی دھیان میں رکھنے کی ہے کہ ۱۹ ویں صدی تک یہاں ہندو اور مسلم کی جو نزاع تھی وہ خود بابری مسجد کے بارہ میں نہ تھی بلکہ مسجد سے الگ ایک اور جگہ کے بارے میں تھی جس کو ہنو مان بیٹھک کہا جاتا تھا ۔ ہندوستان میں غیر رواداری کا مظاہرہ ہر مذہب کے ماننے والوں کی طرف سے ہوتا رہا ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page