آزمودہ حل
Urdu book, p. 46
By Maulana Wahiduddin Khan
گمان جھگڑوں کو ان کے سیاق میں رکھ کر دیکھنا چاہیے ۔ یہ تاریخ کی تلبیس ہوگی کہ ان چیزوں کو فرقہ وارانہ مقاصد کے لیے بگاڑ کر پیش کیا جائے ۔ ٹائمس آف انڈیا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متھرا کے اس مقام کو دوبارہ حاصل کیا جائے اور اس کو اس کے اصل مالکوں کے حوالہ کیا جائے۔ اس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس منطق کی حد کیا ہے اور اس کو آپ کتنے پیچھے تک لے جائیں گے ۔ کیا اس کو ہم یہاں تک لے جائیں گے کہ بدھوں اور جینیوں کے ڈھائے ہوئے مندروں کے مقامات دوبارہ انھیں لوٹائے جائیں اور کیا اسی طرح قدیم ہندستانی باشندوں کے چھینے ہوئے مقدس مقامات بھی ( ٹائمس آف انڈیا ۲۱ اکتوبر ۱۹۸۶ ) اوپر جو خط نقل کیا گیا ، یہ اول درجہ کے ہندو صاحبان کا خط ہے جو ملک کے اول درجہ کے انگریزی اخبار میں چھپا ہے ۔ یہ اعتراف حق اس وقت ہے جب کہ ہم نے ابھی تک ہندو شخصیتوں کے ضمیر کو حکم نہیں بنایا ہے ۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اگر ہندو شخصیتوں کے ضمیر کو حکم کے مقام پر بٹھا دیا جائے تو وہ کس قسم کا اور کیسا فیصلہ کریں گے ، بشرطیکہ سیاسی طریقہ اختیار کر کے مسئلہ کو قومی سا کہ کا مسئلہ نہ بنا دیا گیا ہو ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader