شیطان کی پیروی
Urdu book, p. 47
By Maulana Wahiduddin Khan
شیطان کی پیروی روایات میں آتا ہے کہ ایک بار حضرت عمر فاروق رضیہ مدینہ کی مسجد نبوی میں آئے تو دیکھا کہ صحابہ وہاں بیٹھے ہوئے ہیں اور یہ ذکر کر رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔ اگرچہ اس بات کو بیان کرنے والے صحابہ کرام تھے اور یہ بات مسجد نبوی جیسے مقدس مقام پر بیان ہو رہی تھی، مگر حضرت عمرؓ نے اس سے انکار کیا کہ وہ محض سن کر اس کو مان لیں۔ انھوں نے کہا کہ میں اس کے بارہ میں اس وقت تک کوئی رائے نہیں دے سکتا جب تک خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست دریافت نہ کرلوں۔ چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہائش گاہ پر آئے اور دروازہ پر کھڑے ہو کر آواز دی ۔ آپ سے اجازت لے کر اندر داخل ہوئے اور مذکورہ خبر بیان کر کے اس کی اصل حقیقت دریافت کی۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں، میں نے طلاق نہیں دی ہے ۔ حضرت عمر اس کے بعد دوبارہ مسجد نبوی میں آئے اور اس کے دروازے پر کھڑے ہو کر بلند آواز سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عورتوں کو طلاق نہیں دی ہے ۔ اس پر قرآن میں یہ آیت اتری : وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِّنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا اور جب ان کو کوئی بات امن یا خوف کی پہنچتی ہے بِهِ ۖ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ تو وہ اس کو پھیلا دیتے ہیں ۔ اور اگر وہ اس کو مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ ۚ رسول تک یا اپنے ذمہ دار اصحاب تک پہنچاتے وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَاتَّبَعْتُمُ تو ان میں سے جو لوگ تحقیق کرنے والے ہیں وہ اس کی حقیقت کو جان لیتے ۔ اور اگر تم پر اللہ کا فَضْل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تھوڑے لوگوں کے سوا تم سب شیطان کے پیچھے لگ جاتے۔ آج کل فسادیا فرقہ وارانہ خبروں کے معاملہ میں تمام مسلمان اس اسلامی تعلیم کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ میری معلومات کے مطابق شاید چند مسلمان بھی اس ملک میں ایسے نہیں ہیں جو ہندوتصب یا فرقہ وارانہ فساد کی کوئی خبر سنیں تو اس کی پوری طرح تحقیق کریں اور اس کے الشَّيْطَانَ إِلَّا قَلِيلًا ( النساء ۸۳ )

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader