ذہنیت کا فرق
Urdu book, p. 50
By Maulana Wahiduddin Khan
ہیں ، اور اگر اتفاق سے دوسری قوم کا آدمی جیت جائے تو غم سے نڈھال ہو جاتے ہیں ۔ یہ صحت مند ذہنیت نہیں ، یہ مریضانہ ذہنیت ہے۔ جن لوگوں کا یہ مزاج ہو وہ کبھی کوئی اعلیٰ کامیابی حاصل نہیں کر سکتے ۔ ان کے اندر قومی خود غرضی تو خوب ترقی کرے گی ، مگر ان کے درمیان سائنٹفک مزاج کبھی ترقی نہیں کر سکتا ۔ وہ مزاج جس کا ایک نمونہ موجودہ زمانہ میں جاپان نے پیش کیا ہے ۔ یعنی یہ کہ آدمی قوم پسند یا فرقہ پسند نہ ہو بلکہ وہ معیار پسند ہو ۔ جن لوگوں کے اندر یہ صفت ہو، وہ جب کوئی کام کرتے ہیں تو ان کی ساری توجہ معیار (Quality) پر ہوتی ہے ۔ وہ اپنا کام اس طرح کرتے ہیں کہ اس کے بارے میں وہ اعلیٰ معیار سے کم تر کسی چیز پر راضی نہیں ہوتے ۔ جاپانیوں کی یہی خصوصیت ہے جس کی بنا پر ان کے لیے یہ ممکن ہوا کہ وہ اپنی مصنوعات کو نقص بدرجہ صفر (Zero-defect) کے درجہ تک پہنچا سکیں ۔ اور اپنے بڑھے ہوئے معیار کی بنا پر ساری دنیا کی مارکیٹ پر قبضہ کر لیں ۔ اسرائیل کے قیام سے پہلے کی بات ہے ، ایک مسلم پہلوان اور ایک یہودی پہلوان میں کشتی کا مقابلہ ہوا ۔ اس مقابلہ میں مسلمان کامیاب رہا ۔ اس نے یہودی پہلوان کو مٹوں کے اندر گرا دیا ۔ بظاہر یہودی پہلوان کے لیے یہ بڑی ذلت کی بات تھی ۔ مگر اس نے فوراً اٹھ کر مسلم پہلوان کو گلے سے لگا لیا ۔ اس نے کہا : میں تمہاری ذات کی نہیں بلکہ تمہارے فن کی قدر کرتا ہوں ۔ تم نے جس فن کاری کے ساتھ مجھے گرایا ہے وہ اتنا اعلیٰ ہے کہ میں نے اس کا تصور بھی نہیں کیا تھا ۔ کسی قوم میں اسپورٹس مین اسپرٹ کا ہونا یا نہ ہونا کوئی جزئی بات نہیں ۔ اس کا تعلق اس قوم کے پورے کردار سے ہے ۔ اس کا ظہور زندگی کے تمام معاملات میں ہوتا ہے ۔ ایک نوعیت کا ذہن آدمی کو اپنے حریف سے صرف نفرت کرنا سکھاتا ہے ۔ حریف کی خوبیاں بھی اس کو برائی کی صورت میں نظر آتی ہیں ۔ یہ چیز اس کو ہر اعتبار سے پست کردار بنا دیتی ہے ۔ اس کے برعکس دوسرا مزاج آدمی کو معیار پسند بناتا ہے اس سے آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔ اس کے اندر ایک ایسا انسان ابھرتا ہے جس کے لیے دشمن کا عمل بھی مفید سبق حاصل کرنے کا ذریعہ بن جائے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader