Urdu book · قیادت نامه

ہم کو فائدہ ہے

Urdu book, p. 51

By Maulana Wahiduddin Khan

ہم کو فائدہ ہے ہندوستان کے ایک مسلمان لیڈر سے ملاقات ہوئی۔ وہ اردو کا ایک ہفتہ وار اخبار نکالتے ہیں۔ ابتداء ان کا اخبار عرصہ تک خسارہ پر چلتا رہا۔ مگر اب وہ نفع پر چل رہا ہے۔ گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ انھوں نے جب اپنا اخبار نکالا تو کوشش کے باوجود اس کی اشاعت کسی طرح تین ہزار سے آگے نہیں بڑھ رہی تھی ۔ اسی حالت میں لمبی مدت گزر گئی۔ انھوں نے ہر قسم کی تدبیریں کر ڈالیں مگر اخبار کی اشاعت نہیں بڑھی ۔ اس کے بعد ۸۵ ۱۹ میں اجودھیا کی مسجد کا معاملہ پیش آیا۔ جو مسلمانوں کے نزدیک ” بابری مسجد “ ہے مگر ہندوؤں کا دعویٰ ہے کہ وہ ” رام جنم بھومی “ ہے ۔ مذکورہ لیڈر نے فوراً اس کو پکڑ لیا۔ انھوں نے اس موضوع پر مسلسل دھواں دھار مضامین شائع کیے، اور ان پر تیز و تند سرخلیاں قائم کیں۔ نتیجہ عین اندازے کے مطابق نکلا۔ ان کے اخبار کی اشاعت اچانک تین ہزار سے بڑھ کر تیس ہزار تک پہنچ گئی۔ ان کے پاس ہر طرف سے تحسین اور مبارک باد کے خطوط آنے لگے۔ بابری مسجد جیسے واقعات مسلم ملت کے لیے بری خبر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مگر وہ مسلم قیادت کے لیے اچھی خبر بن جاتے ہیں۔ وہ ایک کے لیے المیہ ہیں اور دوسرے کے لیے طربیہ ــــــــــــ یہ کہانی محض ایک صحافی لیڈر کی کہانی نہیں، یہی ہماری تمام قیادت اور صحافت کی کہانی ہے۔ مذکورہ روداد سن کر مجھے ایک صاحب کا قصہ یاد آگیا۔ وہ ایک دیہاتی مسلمان تھے ۔ وہ اکثر قبروں اور درگاہوں پر جاتے اور وہاں مرادیں مانگتے۔ بستی کے ایک عالم نے ان کو اس سے منع کیا اور کہا کہ قبروں سے مرادیں مانگنا شرک ہے۔ عالم کے نزدیک اس قسم کا فعل شرک تھا۔ مگر مذکورہ دیہاتی مسلمان کا ” تجربہ “ تھا کہ وہ صاحب قبر سے جو مراد مانگتا ہے وہ پوری ہو جاتی ہے۔ مثلاً اس نے لڑکا مانگا تو اس کے یہاں لڑکا پیدا ہو گیا۔ چنانچہ عالم کی بات اس کی سمجھ میں نہیں آئی، اس نے چلا کر کہا : ہم تو جائیں گے، ہم کو فائدہ ہے راقم الحروف پچھلے ہیں سال سے مسلم رہنماؤں کو مشورہ دے رہا ہے کہ وہ جذباتی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page