ایک تجربہ
Urdu book, p. 55
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ ایک دن کے اندر لٹے بھٹے بغیر حل ہو گیا۔ ۱۹۷۴ء کے بعد وہ دوبارہ کبھی پیش نہیں آیا ۔ ندوہ کے اس چھوٹے سے واقعہ میں اس عظیم تر مسئلہ کے بارہ میں رہنمائی موجود ہے جس کو عام طور پر ملی مسئلہ کہا جاتا ہے۔ یہ واقعہ عملی تجربہ کی زبان میں بتا رہا ہے کہ ملک کے فرقہ وارانہ جھگڑوں کو ختم کرنے کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے ۔ ندوہ والوں نے اپنے مسئلہ کو حل کرنے کے لیے اپنے محدود دائرہ میں جو تدبیر کی وہی تدبیر وسیع تر دائرہ میں ملت کے مسائل کا بھی واحد یقینی حل ہے۔ اگر مسلمان اس دانش مندی کا ثبوت دیں ، جس کا ثبوت ندوہ والوں نے دیا تو یقینی طور پر ان کے تمام جھگڑے ختم ہو جائیں گے ۔ اور پھر مسلمانوں کو موقع مل جائے گا کہ وہ امن اور یکسوئی کے ماحول میں اپنی تعمیر و ترقی کا کام کر سکیں۔ اس کے بعد وہ تعمیر کے کام کے لیے بھی مواقع پائیں گے اور اسلام کی اشاعت کے کام کے لیے بھی ۔ مسئلہ کے حل کا جو تجربہ دس سال پہلے ندوہ میں کامیاب طور پر کیا گیا تھا، وہ ندوہ کے باہر ملت کے وسیع تر دائرہ میں کیوں اب تک اختیار نہ کیا جا سکا۔ اس کا سبب متناقض طور پر ( Paradoxically ) خود ندوہ کے ذمہ دار اور ان کے جیسے دوسرے قائدین ہیں۔ اس المیہ کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ ان قائدین ملت نے اس حدیث رسول پر عمل نہیں کیا جس میں اہل ایمان کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ تم دوسروں کے لیے بھی وہی چیز پسند کرو جو تم خود اپنے لیے پسند کرتے ہو ( احب لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ ) سے ان قائدین نے جس تدبیر سے اپنا ذاتی مسئلہ کامیاب طور پر حل کیا ، ان پر لازم تھا کہ دوسروں کو بھی وہ وہی تدبیر بتائیں۔ وہ ساری مسلم قوم کو اسی آزمودہ طریق کار کا سبق دیں۔ مگر انھوں نے صرف یہ ایسا نہیں کیا بلکہ وہ ملت کو اس کے برعکس تدبیر اختیار کرنے پر ابھارتے رہے ۔ اپنا مسئلہ انھوں نے خاموش تدبیر سے حل کیا تھا اور قوم کو وہ پر شور تدبیر اختیار کرنے کا سبق دیتے رہے ۔ اپنا مسئلہ انھوں نے مفاہمت کے ذریعہ حل کیا تھا اور ملت کو انھوں نے مقابلہ آرائی کا پیغام دیا۔ اپنے لیے انھوں نے شکست کو مان کر جینے کا راز دریافت کیا تھا اور دوسروں کو وہ اپنی تقریروں میں للکارتے رہے کہ یہ ایک مشہور حدیث ہے جو مختلف الفاظ میں آئی ہے ۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں : لا يؤمن احد كم حتی يحب لاخیہ مایحب لنفسہ ، رواہ البخاری ومسلم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader