ایک تجربہ
Urdu book, p. 56
By Maulana Wahiduddin Khan
ہرگز شکست نہ ماننا، چاہے تم سب کے سب ہلاک ہو جاؤ۔ اپنے ذاتی حریف کو پیش کرنے کے لیے ان کے پاس تالیف قلب کا گلدستہ تھا۔ مگر جب وہ قوم کے سامنے آئے تو اس کو یہ کہہ کر ابھاراک تم سیف اللہ اور صمصام الاسلام بن کر اپنے حریف کا مقابلہ کرو۔ تقریر وخطابت کے لیے ان کے پاس دوسرا اسلام تھا اور عمل کے لیے بالکل دوسرا اسلام۔ قائدین کا یہی تضاد ملت کے تمام مسائل کا واحد سبب ہے۔ ہمارے قائدین اپنے ذاتی مسائل کو مفاہمت اور خوش تدبیری کے ذریعہ حل کر رہے ہیں ؛ اور ملت کے نوجوانوں کو اپنی پرجوش تقریروں کے ذریعہ یہ مشورہ دیتے ہیں کہ وہ لاتناہی طور پر اپنے ححلیفوں سے لڑتے رہیں۔ اسی تضاد کا یہ کرشمہ ہے کہ ہمارے قائدین خود تو ہر قسم کے جانی اور مالی نقصان سے بچے ہوئے ہیں، ان میں سے کسی کو کبھی کوئی زخم نہیں لگا۔ اور ملت کا حال یہ ہے کہ وہ بے فائدہ طور پر اپنا جان بھی برباد کر رہی ہے اور اپنا مال بھی۔ اگر اسلام کا سب سے بڑا تقاضایہ ہے کہ مجنونانہ اقدام کرکے اپنے مکانوں اور دوکانوں کو نذر آتش کرایا جائے تو محترم قائدین کے مکان اور دوکان کیوں نذر آتش نہیں ہوتے۔ اگر اسلام کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ آدمی مشتعل ہو کر لڑے اور شہید ہو جائے تو خود قائدین اپنے آپ کو اس فضل شہادت سے کیوں محروم کیے ہوئے ہیں۔ ندوہ سے ایک پندرہ روزہ اخبار نکلتا ہے جس کا نام ہے ' تعمیر حیات' اس کی اشاعت ۱۰ جنوری ۱۹۸۵ میں ندوہ کے ذمہ دار اعلیٰ کا ایک خصوصی انٹرویو چھپا ہے۔ اس کا جلی عنوان یہ ہے: مسلمانوں کو اس ملک میں اپت اوزن ثابت کرنا ہوگا۔ اس انٹرویو میں ندوہ کے مذکورہ ذمہ دار نے فرمایا کہ "کسی قوم یا فرقہ کا وزن اس وقت محسوس کیا جاتا ہے جب یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ نفع کے علاوہ نقصان بھی پہونچ سکتا ہے"۔ ندوہ کے مذکورہ ذمہ دار پچھلے ہیں سال سے ہندوستان کے " مظلوم "مسلمانوں کو یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ تم اپنے مسئلہ کے حل کے لیے نقصان رسانی کی اہلیت کا ثبوت دو۔ یہی مشورہ انھوں نے ۱۹۶۶ کے ہندوستانی الیکشن میں مسلمانوں کو دیا تھا۔ مذکورہ انٹرویو کے مطابق اب بھی وہ قوم کو یہی مشورہ دے رہے ہیں۔ "مفکر اسلام" کا یہ قیمتی مشورہ نعوذ باللہ خود پیغمبر اسلام کو بھی معلوم نہ تھا۔ ورنہ وہ مکہ کے مظلوم مسلمانوں کو حبش یا یثرب کی طرف ہجرت کرنے کا مشورہ نہ دیتے بلکہ یہ کہتے کہ قریش مکہ کو نقصان پہونچا کر تم اپنے لیے کو میں زندگی کا حق وصول کر لو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader