Urdu book · قیادت نامه

ایک تجربہ

Urdu book, p. 57

By Maulana Wahiduddin Khan

عجیب بات یہ ہے کہ مذکورہ بزرگ نے خود اپنے ادارہ کے مسئلہ کا حل یہ نکالا کہ ادارہ کے لوگ اپنے حریف کے مقابلہ میں بالکل بے سر پر بن جائیں۔ وہ ایک طرفہ طور پر جھک کر فریق ثانی کی برتری تسلیم کر لیں مگر ملت کو وہ یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ تم میدان مقابلہ میں ڈٹ جاؤ ۔ تم اپنے حریف کو ضرر پہنچاؤ تم فریق ثانی کو جھکنے پر مجبور کر دو۔ یہ تضاد بھی کیسا عجیب ہے کہ ایک انسان اپنے ذاتی معاملہ میں یک طرفہ طور پر فریق ثانی کے آگے جھک کر اپنے مسئلہ کو حل کرتا ہے اور ملت کو وہ یہ مشورہ دیتا ہے کہ تم اپنی ساری کمزوریوں کے باوجود فریق ثانی کو جھکاؤ اور اس کو نقصان پہنچا کر اپنے مسئلہ کو حل کرو۔ مسئلہ کے حقیقی حل کے لیے اکثر آدمی کو اپنی بڑائی کے بت کو توڑنا پڑتا ہے ۔ مذکورہ مثال میں ندرہ والوں نے یونیورسٹی والوں کے مقابلہ میں اپنی بڑائی کو توڑا، اسی وقت یہ ممکن ہوا کہ مسئلہ کے حل کی راہیں کھلیں ۔ ذاتی معاملہ میں چوں کہ آدمی سنجیدہ ہوتا ہے، وہ فوراً اپنی ذاتی بڑائی کے بت کو توڑنے پر راضی ہو جاتا ہے ۔ وہ مسئلہ کے حل کو اصل قرار دیتا ہے نہ کہ اپنی ذات کی بڑائی کو۔ مگر ملت کے معاملہ میں لوگ اتنا سنجیدہ نہیں جتنا وہ ذاتی مفاد کے معاملہ میں سنجیدہ ہوتے ہیں ۔ اس لیے یہاں وہ اپنی بڑائی کے بت کو نہیں توڑتے ۔ ذاتی مفاد کے معاملہ میں ہر شخص اپنی بڑائی کو توڑتے ہوئے ہے مگر ملت کے مفاد کے معاملہ میں کوئی شخص اپنی بڑائی کو توڑنے پر راضی نہیں ۔ مذکورہ انٹرویو میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ " اخلاقی قیادت کر کے مسلمان ہندوستان کی ناگزیر ضرورت بن سکتے ہیں" یہ بات بذات خود صحیح ہے۔ مگر اپنی موجودہ شکل میں وہ سراسر ناکافی ہے ۔ ندرہ کے مذکورہ بزرگ کو اپنے اس مشورہ کے ساتھ اپنا ۱۹۷۴ کا تجربہ بھی بتانا چاہیے ۔ انھیں اسی کے ساتھ اس کا بھی اعلان کرنا چاہیے کہ لکھنؤ یونیورسٹی کے غیر مسلم طلبہ کے مقابلہ میں انھوں نے کس تدبیر کے ذریعہ اخلاقی فتح حاصل کی تھی ۔ وہ تدبیر ایک لفظ میں یک طرفہ جھکاؤ تھی ۔ انھوں نے یونیورسٹی کے طلبہ کے مقابلہ میں یک طرفہ طور پر ہار قبول کی ۔ انھوں نے یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو چھوٹا بنایا۔ انھوں نے یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو نرم رویہ کا پابند کیا ۔ انھوں نے یک طرفہ طور پر یہ ذمہ داری قبول کی کہ وہ اپنے آپ کو مقابلہ آرائی کے مقام سے ہٹائیں۔ ندرہ والوں کو چاہیے کہ وہ مسلمانوں کو اخلاقی قیادت کا درس دینے کے ساتھ یہ بھی ضرور بتائیں کہ اس کاراز ایک طرفہ جھکاؤ ہے اور اس کا کامیاب تجربہ وہ خود ۱۹۷۴ میں کر چکے ہیں ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page