Urdu book · قیادت نامه

مسائلِ ملت

Urdu book, p. 5

By Maulana Wahiduddin Khan

مسائل ملت فرد وملت کے مسائل کا جو حل ہے ، وہی خود ملت کے مسائل کا حل بھی ہے۔ ملت کا ایک فرد اپنی ذاتی کوشش سے اپنی زندگی کی تعمیر کرتا ہے۔ اسی طرح مجموعہ افراد جس کا نام ملت ہے ، اس کے مسائل بھی اس کی اپنی کوششوں سے حل ہوں گے ۔ کوئی دوسرا اس کے مسائل کو حل کرنے والا نہیں۔ اس دنیا میں ایک بھائی کبھی دوسرے بھائی کے لئے نہیں کما تا۔ کوئی رشتہ دار دوسرے رشتہ دار کے لئے لڑائی نہیں لڑتا۔ یہ بات ہر شخص جانتا ہے۔ اس لئے ہر شخص پہلی فرصت میں " اپنی تعمیر آپ " کے اصول پر اپنی زندگی کی جدوجہد میں لگ جاتا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ ملت کا سوال سامنے آتے ہی تمام لوگ بالکل دوسرے انداز سے سوچنے لگتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ملت کے مسائل کا تعلق خود ملت سے نہیں بلکہ دوسروں سے ہے۔ اس کا تعلق حکومت سے ہے ، انتظامیہ سے ہے ، فلاں فلاں متعصب جماعتوں اور گروہوں سے ہے۔ وغیرہ۔ کوئی کہتا ہے کہ ملی مسئلہ کے ذمہ دار فلاں فلاں سرکاری افسر ہیں ، اس لئے ان افسروں کو معطل کرا ؤ۔ کوئی کہتا ہے کہ حکمراں پارٹی اس کی ذمہ دار ہے ، اس لئے الیکشن میں اس پارٹی کے امیدواروں کے خلاف ووٹ دے کر انھیں شکست دو ۔ کوئی کہتا ہے کہ متعصب جماعتیں اس کی ذمہ دار ہیں ، اس لئے اخبار نکال کر ان کے خلاف دھواں دھار مضامین شائع کرو۔ یہ باتیں مضحکہ خیز حد تک غلط ہیں۔ اور اس غلطی کے سب سے بڑے ذمہ دار مسلمانوں کے نام نہاد رہنما ہیں۔ یہ رہنما اپنے ذاتی مسائل کو تو ہمیشہ حکیمانہ تدبیر کے ذریعہ حل کرتے ہیں۔ اور ملی مسائل کے بارے میں پر جوش تقریریں کر کے پوری قوم کا مزاج بگاڑ رہے ہیں ۔ وہ ملت کے اندر تعمیر کے بجائے احتجاج کا ذہن بنا رہے ہیں۔ کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ ملت کے افراد کو باشعور بنایا جائے ۔ ان کے اندر اخلاقی اوصاف پیدا کئے جائیں ۔ دوسروں کے خلاف بیان دینے اور تقریریں کرنے سے کوئی فائدہ نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page