داخلی احتساب
Urdu book, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
داخلی احتساب لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۚ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ ۔ كَانُوا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُنْكَرٍ فَعَلُوهُ ۚ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ (المائدہ ۷۸-۷۹) بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ان پر لعنت کی گئی، داؤد اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے۔ اس لیے کہ انھوں نے نافرمانی کی اور وہ حد سے آگے بڑھ جاتے تھے۔ وہ ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے اس برائی سے جو وہ کرتے تھے۔ نہایت بُرا کام تھا جو وہ کر رہے تھے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے خارجی احتساب کو زندگی کی علامت سمجھ لیا ہے۔ مگر مذکورہ آیت اس کے برعکس یہ اعلان کر رہی ہے کہ داخلی احتساب مسلمانوں کی ایمانی زندگی کی علامت ہے۔ مسلم معاشرہ کے اندر برائی کو برداشت نہ کرنا اور آپس میں ایک دوسرے کو غلط کام سے روکنا اسلام اور ایمان کی لازمی شرط ہے۔ اہل ایمان کے معاشرے میں اگر یہ صفت باقی نہ رہے تو ایسے لوگ اللہ کی نظر میں لعنت زدہ قرار پائیں گے، جیسا کہ یہود کے ساتھ ہوا۔ دوسروں کے خلاف احتجاج اور احتساب کی کوئی بھی مقدار اس کا بدل نہیں بن سکتی۔ حدیث کی کتابوں میں کثرت سے ایسی روایتیں موجود ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو بنی اسرائیل (یہود) کی مذکورہ روش سے ڈرایا ہے اور متنبہ کیا ہے کہ اگر تم نے ایسا کیا تو تم بھی خدا کی نظر میں اسی طرح ملعون ہو جاؤ گے جس طرح یہود خدا کی نظر میں ملعون قرار پائے۔ یہاں ہم چند حدیثیں نقل کرتے ہیں : عن عبد اللہ بن مسعود قال ؛ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ان الرجل من بني اسرائيل كان اذا رأى اخاه على الذنب نهاه عنه تعذيرا فاذا كان من الغد لم يمنعه ما رأى منه ان يكون اكيله وخليطه وشريكه فلما رأى الله ذلك منهم ضرب قلوب بعضهم على بعض ولعنهم على لسان نبيهم داؤد وعيسى ابن مريم ذلك بما عصوا وكانوا يعتدون ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم والذي نفسي بيده لتامرن بالمعروف ولتنهون عن المنكر ولتأخذن على

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader