Urdu book · قیادت نامه

چند مثالیں

Urdu book, p. 69

By Maulana Wahiduddin Khan

انھوں نے بگڑا کر کہا کہ اس کا کیا مطلب ہے۔ میں نے کہا کہ آپ اپنے ذاتی معاملہ میں مفاہمت کے اصول پر قائم ہیں۔ اور دوسروں کو ٹکرائو کے راستہ پر لے جانا چاہتے ہیں۔ آپ کا سابقہ جن ہندوئوں داخلی افسران، سے پڑتا ہے ان کے ساتھ آپ مبالغہ آمیز حد تک اسی نرم روش کو اپناتے ہوئے ہیں جس کی تلقین الرسالہ میں کی جاتی ہے۔ دوسری طرف مسلمانوں کے معاملہ میں یہ چاہتے ہیں کہ ان کا سابقہ جن ہندوئوں سے پڑے ان کے مقابلہ میں وہ آخری حد تک کڑتے بن جائیں۔ مذکورہ مسلم دانشور اور ان کے جیسے دوسرے تمام مسلمانوں کے معاملات پوری طرح درست ہیں۔ ان کے بچے اعلی ڈگریاں لے کر بڑی بڑی ترقیاں حاصل کر رہے ہیں۔ اس کا راز صرف یہ ہے کہ وہ زبان سے اگرچہ لڑائی بھڑائی کی باتیں کرتے ہیں، مگر عملاً اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو لڑائی بھڑائی سے سیکڑوں میل دور رکھتے ہیں۔ اب میں مسلمانوں کو مشورہ دوں گا کہ وہ بھی اسی طریقہ کو اپنا لیں۔ تصادم اور اقدام، جیسی باتوں کو وہ صرف کہنے کی بات سمجھیں وہ ہرگز انھیں اپنا عملی پروگرام نہ بنائیں۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کا اور ان کے بچوں کا مستقبل بھی اسی طرح محفوظ رہے گا جس طرح ہمارے رہنمائوں اور دانشوروں کا مستقبل پوری طرح محفوظ ہے۔ خلاصہ اوپر جو کچھ کہا گیا، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے "قتل عام" کے باوجود خود مسلمانوں کا ایک طبقہ ایسا موجود ہے جس کو اب بھی اس ملک میں حفاظتِ عام حاصل ہے۔ یہ طبقہ مسلم لیڈروں کا ہے۔ یہ دراصل مسلم لیڈر ہی ہیں جو ہندوستان میں مذکورہ "قتل عام" کا انکشاف کرتے رہتے ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی واقعہ ہے کہ خود مسلم لیڈر اس قتل عام سے ہمیشہ اپنے آپ کو بچانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ ہم مسلمانوں کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ اس معاملہ میں وہ بھی وہی کریں جو ان کے لیڈر کرتے ہیں۔ لیڈروں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں کرتے نہیں۔ فرقہ وارانہ نقصان سے بچنے کے لیے مسلمان کبھی اپنے لیڈروں کی اسی آزمودہ تدبیر کو اختیار کر لیں ۔ مسلمان اپنے لیڈروں کے قول کو نہ دیکھیں بلکہ وہ صرف ان کے عمل کو دیکھیں۔ اس معاملہ میں لیڈر لوگ دوسروں سے جو کچھ کہتے ہیں اس کو وہ نظر انداز کر دیں، اور صرف یہ پتہ لگائیں کہ وہ خود کیا کر رہے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page