Urdu book · قیادت نامه

دو تصویریں

Urdu book, p. 70

By Maulana Wahiduddin Khan

دو تصویریں ہندوستان کے ایک مسلمان لیڈر ہیں۔ وہ دہلی میں رہتے ہیں۔ اور پچھلے دس برس سے اس ملک میں وہ سیاست چلا رہے ہیں جس کا نام انہوں نے اپوزیشن کی سیاست رکھا ہے۔ وہ ایک ماہانہ رسالہ نکالتے ہیں جس کا نام "مسلم ہندوستان" مگر زیادہ صحیح لفظوں میں "ظالم ہندوستان" ہے۔ اس پرچے کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ہر مہینہ مسلمانوں کے اوپر ظلم و تعصب کی داستانیں چھاپی جاتی ہیں۔ لیڈر صاحب کے ہر بیان اور ہر تقریر میں اس بات کا انکشاف ہوتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ امتیاز برتا جارہا ہے۔ ان کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ وہ پولیس کی گولیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ انھیں زندگی کے ہر شعبہ سے دھکے دے کر نکالا جارہا ہے۔ ان کے ملی تشخص کو مٹانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ دسمبر ۸۸ میں میں امریکہ کے سفر پر تھا۔ وہاں میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی جو مذکورہ لیڈر کے ماہنامہ (مسلم ہندوستان) کے خریدار ہیں۔ اور اس کو برابر پڑھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ” اس ماہنامہ کو میں اس لئے پڑھتا ہوں تاکہ ہندوستانی مسلمانوں کے حالات معلوم ہوسکیں۔ اس ماہنامہ کو پڑھنے سے تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انڈیا میں مسلمانوں کے لئے کوئی اسکوپ نہیں۔ وہاں محرومی اور مظلومی کے سوا ان کا کوئی اور مقدر نہیں“۔ اس ماہنامہ کا خاص طرپہ یہ ہے کہ یہاں اگر ۹۹ پلیس پوائنٹ ہوں تو وہ ان کا ذکر نہیں کرے گا، اور اگر ایک مائنس پوائنٹ مل جائے تو اس کو خوب نمایاں کرکے بیان کرے گا۔ مذکورہ مسلمان لیڈر کا ایک مفصل انٹرویو دہلی کے ایک اردو ہفت روزہ ۳۱ مارچ تا ۶ اپریل ۱۹۸۹) میں چھپا ہے۔ میں نے اس انٹرویو کو پڑھا۔ اس کو پڑھتے ہوئے میں اس کے اس حصوپر پہنچا جہاں انھوں نے انٹرویو کو اپنے گھر کے اندرونی حالات بتائے ہیں۔“ اب میں ذاتی بات آپ سے کہہ رہا ہوں۔ میرے ۶ بچے ہیں۔ جن میں پانچ لڑکیاں ہیں“۔۔ مسلمان لیڈر کے ان الفاظ کو پڑھ کر میں نے کچھ دیر کے لئے اخبار بند کر دیا۔ میں نے اپنے ذہن میں سوچنا شروع کیا کہ لیڈر صاحب نے اس کے بعد انٹرویو سے کیا کہا ہوگا۔ انھوں نے اپنے بچوں کے بارہ میں کس قسم کی خبریں بتائی ہونگی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page