Urdu book · قیادت نامه

دو تصویریں

Urdu book, p. 71

By Maulana Wahiduddin Khan

لیڈر صاحب کے بیانات، ان کی تقریروں اور تحریروں میں جس ”مسلم ہندوستان“ کی تصویر پیش کی جاتی ہے، اس کی روشنی میں میں نے سوچنا شروع کیا تو قیاسی طور پر جو بات میری سمجھ میں آئی وہ بڑی بھیا تک تھی۔ میں نے سوچا کہ لیڈر صاحب نے غالباً یہ خبر دی ہوگی کہ میرا ایک لڑکا ہے۔ اس کو پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ وہ یہاں کے اسکولوں اور کالجوں میں مارا مارا پھرا۔ مگر اس کو کہیں داخلہ نہیں ملا۔ اس کی تعلیم نامکمل رہ گئی۔ آخر مجبور ہو کر وہ رکش چلانے لگا تا کہ کسی طرح اپنا پیٹ پال سکے۔ میرا لڑکا ماشا اللہ پنج وقتہ نمازی ہے۔ ہمارے علاقے میں ایک ویران مسجد تھی۔ میرے لڑکے نے محلہ والوں کی مدد سے اس کو رنگ و روغن کرایا اور اس میں باقاعدہ نماز قائم کی۔ فرقہ پرست اور ملک دشمن عناصر کو یہ بات سخت ناپسند ہوئی۔ وہ ایک روز ہجوم کرکے آئے۔ انھوں نے مسجد میں گھس کر میرے لڑکے کو بری طرح مار پیٹا۔ اس کی داڑھی نوچی جس کو وہ اپنے مذہبی تشخص کے نشان کے طور پر نہایت عزیزہ رکھتا ہے۔ لڑکے کو بے ہوشی کی حالت میں اسپتال پہنچایا گیا۔ وہاں وہ بہت دنوں تک زیرِ علاج رہا۔ میری ایک لڑکی کو تعلیم کا بہت شوق تھا۔ کوشش کے باوجود اس کو اچھے انگریزی اسکول میں داخلہ نہیں ملا۔ مجبوراً اس کو ایک معمولی قسم کے اردو میڈیم اسکول میں داخل کرنا پڑا۔ لڑکی نے پاس کورس سے بی اے کیا۔ اس کے بعد وہ ایم اے کرنا چاہتی تھی۔ مگر داخلہ نہ ملنے کی وجہ سے وہ ایم اے نہ کرسکی۔ ظاہر ہے کہ اس کے بعد اس کو کوئی اچھی سروس نہیں مل سکتی تھی۔ چنانچہ اب وہ گھروں پر جاجا کر اردو اور قرآن کا ٹیوشن کرتی ہے۔ اور اس طرح زندگی کے دن گزرارہی ہے۔ یہی میرے سب بچوں کا حال ہوا۔ ملک میں اندھے تعصب کی وجہ سے کسی کی بھی اچھی تعلیم نہ ہوسکی۔ میری تمام لڑکیاں ماشا اللہ مذہب ہی ہیں۔ سب کی سب خدا کے فضل سے شرعی برقعہ پہنتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ جہاں بھی جاتی ہیں، ان کے برقعہ کو دیکھ کر ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ ان کے مذہبی تشخص پر حملے کئے جاتے ہیں۔ کسی بھی اسکول یا کالج میں ان کو نہ داخلہ ملتا ہے اور نہ ملازمت۔ آخر کار میں نے اعلیٰ تعلیم سے مایوس ہو کر یہ طئے کیا کہ لڑکیوں کی شادی کر دوں۔ مگر جب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page