Urdu book · قیادت نامه

دو تصویریں

Urdu book, p. 77

By Maulana Wahiduddin Khan

نا واقف رکھا جائے تاکہ وہ نہ اردو زبان کے زرد اخبارات پڑھیں اور نہ اس مفسدانہ ہندوستان کو جان سکیں جہاں مسلمانوں کے لئے احتجاج اور ایجی ٹیشن کے سوا کچھ اور کرنے کا موقع ہی نہیں۔ جب بانس ہی نہ ہوگا تو بانسری کہاں سے بچے گی۔ یہاں میں یہ اضافہ کر دوں گا کہ یہ صرف ایک مسلم لیڈر کی بات نہیں، یہی تقریباً تمام مسلم لیڈروں اور رہنماؤں کی بات ہے، خواہ وہ بے ریش رہنما ہوں یا با ریش رہنما۔ ان میں سے ہر ایک کا معاملہ وہی ہے جو اوپر کی مثال میں مذکورہ لیڈر کا نظر آتا ہے۔ یہ لوگ دوسروں کے سامنے الرسالہ کی مخالفت کرتے ہیں، مگر خود وہ دل و جان سے الرسالہ کو اپنا پیر و مرشد بنائے ہوئے ہیں۔ وہ ظاہری طور پر الرسالہ کے طریقہ کو غلط بتاتے ہیں۔ مگر اندرونی طور پر وہ اپنے بچوں کو اور اپنی زندگی کے تمام ذاتی معاملات کو الرسالہ کے بتائے ہوئے طریقہ پر چلا رہے ہیں۔ یہی وہ دو طرفہ کردار ہے جس کو فارسی شاعر نے تمثیلی طور پر ان لفظوں میں بیان کیا تھا کہ وہ بظاہر مئے کا انکار کرتے ہیں، مگر علما وہ خود بھی مئے پرستوں ہی کے رنگ میں جیتے ہیں: منکر کے بودن و ہم رنگ مستاں زیستن یہ تقسیم کیسی المناک ہے کہ مسلمانوں کے نام نہاد لیڈروں نے اپنے لئے زندگی کا انتخاب کیا ہے، اور عوام کے لئے موت کا۔ ایک لفظ میں یہ کہ جنھیں مرنا نہیں وہ للکارتے ہیں، اور جو للکارتے نہیں وہ مارے جاتے ہیں۔ کتنے ہوشیار ہیں مسلمانوں کے لیڈر، اور کتنے نادان ہیں ان کے مسلمان پیرو جو کھلے ہوئے استحصال کو دیکھتے ہیں، پھر بھی پوری وفاداری کے ساتھ ان کے پیچھے چلے جا رہے ہیں۔ اتنا عجیب منظر شاید اس سے پہلے آسمان نے کبھی دیکھا ہوگا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page