قیادت کا دیوالیہ پن
Urdu book, p. 78
By Maulana Wahiduddin Khan
قیادت کا دیوالیہ پن ضبط کروں میں کب تک آہ چل رے خامہ بسم اللہ بابری مسجد اور رام جنم بھومی (اجودھیا) کا جھگڑا سو سال سے بھی زیادہ پرانا ہے۔ تاہم اپنی موجودہ شکل میں یہ جھگڑا یکم فروری ۱۹۸۶ء کو شروع ہوا جب کہ فیض آباد کے ڈسٹرکٹ جج ، کرشن موہن پانڈے ، کے عدالتی حکم کے تحت مقامی پولیس نے بابری مسجد کے دروازہ کا تالا کھول دیا جو ۱۹۲۹ء سے بند چلا آ رہا تھا۔ اس کے نتیجہ میں یہ عمارت عملاً ہندوؤں کے قبضہ میں چلی گئی ۔ یہ واقعہ بلا شبہ غلط تھا۔ مگر اس کے بعد مسلمانوں نے جو کچھ کیا وہ یقینی طور پر اس سے بھی زیادہ غلط تھا۔ کیوں کہ وہ سنتِ رسولؐ کے خلاف تھا۔ تقدیم مکہ میں کعبہ کے مقدس ترین خدا خانہ کو بت خانے میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہ اسی نوعیت کا سنت تر مسئلہ تھا۔ مگر اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں نے ان طریقوں میں سے کوئی طریقہ اختیار نہیں کیا جو موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے سیاست پسند لیڈروں کی پیروی میں اختیار کیا ہے ۔ کعبہ کے مذکورہ مسئلہ کو رسول اللہؐ نے قومی لڑائی کا عنوان نہیں بنایا، بلکہ اپنی ساری توجہ انسانی ضمیر کو جگانے پر لگا دی ۔ بابری مسجد کا مسئلہ پیدا ہونے کے بعد مسلمانوں نے یہ کیا کہ انھوں نے بند ، گرفتاری ، دھرنا ، ریلی ، ایجی ٹیشن ، جلسوں اور تقریروں کے ہنگامے جاری کر دیئے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ جب کہ مشرکین نے خانہ خدا میں بت داخل کر رکھے تھے، آپ نے ان مشرکین کے دلوں میں توحید کو داخل کرنے کی مہم شروع کر دی ۔ یہ طریقہ خدا کی صراط مستقیم کے مطابق تھا۔ چنانچہ اس کو صد فی صد کامیابی حاصل ہوئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتی کوششوں سے لوگوں کے سینے توحید خانے بن گئے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسجد بھی آخر کار بت خانے کے بجائے توحید خانہ میں تبدیل ہو گئی ۔ بابری مسجد کے معاملہ میں مسلمانوں نے جو ہنگامہ برپا کیا ہے وہ سراسر ایک قومی ہنگامہ ہے۔ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔ یہ استحصال پسند لیڈروں کی پیروی میں ہے نہ کہ خدا کے پیغمبر کی پیروی میں ۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاملہ میں مسلمانوں کو خدا کی مدد نہ مل سکی ۔ ان کے ان ہنگاموں سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader