Urdu book · قیادت نامه

قیادت کا دیوالیہ پن

Urdu book, p. 80

By Maulana Wahiduddin Khan

یہاں میں ایک خصوصی میٹنگ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو نئی دہلی کے وٹھل بھائی پٹیل ہاؤس میں ۲۷ مارچ ۱۹۸۷ء کو ہوئی تھی۔ یہ میٹنگ بابری مسجد راجو دھیا) کے مسئلہ پر تھی۔ ایک طرف بابری مسجد تحریک کے ذمہ داران تھے اور دوسری طرف ہندو شخصیتیں ۔ ہندو جانب سے جو افراد شریک ہوئے ، ان میں ایک ممتاز نام مہنت اوید ناتھ کا ہے جو رام جنم بھومی مکتی یگیہ سمتی کے صدر ہیں۔ راقم الحروف بھی خصوصی دعوت کے تحت اس میٹنگ میں موجود تھا۔ اس موقع پر دونوں طرف کے لوگوں نے اپنا اپنا نقطہ نظر بیان کیا۔ اکثر ہندو صاحبان نے مصالحت کے انداز میں تقریر کی ۔ مہنت اوید ناتھ نے واضح اور متعین انداز اختیار کیا۔ انھوں نے کہا کہ بابری مسجد ہمارے نزدیک رام جنم بھومی پر بنائی گئی ہے۔ مسجد تو آپ دوسری جگہ بھی بنا سکتے ہیں مگر جنم بھومی تو وہیں رہے گی جہاں کہ وہ ہے۔ اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ یہ جگہ ہم کو واپس دے دی جائے تاکہ ہم اس کو اس کی ابتدائی صورت میں تعمیر کر سکیں۔ مسلم نمائندے حسب معمول اس طرح تقریر کرتے رہے جیسے کہ وہ مسلمانوں کی طرف سے محض قومی وکیل بن کر اس مجلس میں شریک ہوئے ہیں ۔ ایودھیا کے اس جھگڑے نے جو شدت اور نزاکت اختیار کر لی ہے ، اس کے پیش نظر اس معاملہ میں کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ دونوں فریقوں کو فیصل کی ایسی مشترک بنیاد پر لایا جائے جس سے دونوں اتفاق کر سکیں ۔ قومی وکالت اور جارحانہ مناظرہ والا انداز کسی بھی درجہ میں حل کا دروازہ کھولنے والا نہیں بن سکتا ۔ مذکورہ میٹنگ میں جب دوسرے لوگ بول چکے تو حاضرین کے اصرار پر میں نے ایک مختصر تقریر کی۔ سب سے پہلے میں نے یہ کہا کہ مسجد کا معاملہ اسلام میں بے حد نازک ہے ۔ مسجد کا مسئلہ یہ ہے کہ جو مسجد ایک بار بن جائے وہ ہمیشہ کے لیے مسجد ہے۔ اس کو نہ اس کی جگہ سے ہٹایا جا سکتا اور نہ کسی طرح اسے ختم کیا جا سکتا ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مسجد اگر واقعی وہ مسجد ہے تو مسلمان اپنے عقیدہ کی رو سے کبھی اس کو چھوڑنے پر راضی نہیں ہو سکتے ۔ مگر اسی کے ساتھ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ مسجد ایک مقدس عبادت خانہ ہے۔ اس لیے مسجد کی تعمیر لازماً جائز زمین پر ہونا چاہیے ۔ اگر غصب کی ہوئی زمین پر مسجد بنائی جائے تو اسلامی فقہا کا کہنا ہے کہ ایسی مسجد میں نماز جائز نہیں (لا تجوز فیه الصلوة)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page