Urdu book · قیادت نامه

قیادت کا دیوالیہ پن

Urdu book, p. 79

By Maulana Wahiduddin Khan

معاملہ صرف نازک تر ہوتا چلا گیا ، وہ کسی بھی درجہ میں حل نہ کیا جا سکا۔ اس معاملہ میں مسلمانوں کو کم سے کم جو کرنا تھا وہ یہ تھا کہ یکم فروری ۱۹۸۶ کے بعد بھی وہ اسی طریقہ پر قائم رہتے جس پر وہ اس سے پہلے قائم تھے۔ یا دوسری سیکڑوں مسجدوں کے بارے میں آج بھی جس طریقہ کو وہ عملاً اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یعنی مذکورہ غلط فیصلہ کو قانون اور گفت و شنید کے ذریعہ حل کرنے کی کوشش کرنا۔ اور بالفرض اگر اس طرح کوئی حل سامنے نہ آئے تب بھی لازماً اسی پر قائم رہنا۔ کیوں کہ یہ ہرگز عقل مندی نہیں ہے کہ کوئی شخص آپ کی ایک چیز پر قبضہ کرلے اور آپ عدالت سے انصاف نہ پا رہے ہوں ، تو آپ اپنے گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کر لیں ۔ مسلمانوں کے استحصال پسند لیڈروں نے اس مسئلہ کو اس طرح ابھارا جیسے کہ وہ اسی کے منتظر ہوں، انھوں نے انتہائی جذباتی تقریریں کر کے مسلمانوں کا خون گرما دیا۔ وہ اس مسئلہ کو سڑک پر لے آئے۔ انھوں نے اس کو اتنا زیادہ بڑھایا کہ وہ پورے ملک میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان شدید ترین قومی تناؤ کا سبب بن گیا۔ اس طرح انھوں نے نہ صرف اجودھیا کو بلکہ پورے ملک کو اشتعال کی بھٹی کے کنارے کھڑا کر دیا۔ اسی کا براہ راست نتیجہ میرٹھ اور ملیانہ کا دردناک فساد تھا۔ ان فسادات میں لیڈر صاحبان کا تو کچھ نہیں بگڑا، البتہ بے شمار مسلم خاندان برباد ہو کر رہ گئے ۔ مرکزی رابطہ بابری مسجد کمیٹی (بابری مسجد موومنٹ کو آرڈی نیشن کمیٹی) کے چیرمین کا ایک انٹرویو افکار ملی (۳۱ مئی ۱۹۸۸) میں چھپا ہے۔ اس کا ایک سوال و جواب یہ ہے : سوال: ملک کے باشعور طبقوں کا کہنا ہے کہ دونوں قو میں بالمشافہ گفتگو سے مسئلہ کے کسی حل پر بہو پہنچ سکتی ہیں۔ کیا اس مسئلہ کو گفتگو کے ذریعہ حل کرنے کی کوشش کی گئی ۔ (صفحہ ۲۶) جواب: लगातार ایسی کوششیں ہوئیں اور ہر سطح پر ہوئیں۔ لیکن ابھی تک کوئی واضح نتیجہ نہیں نکلا۔ میرے ذاتی تجربہ کے مطابق، یہ بات سراسر خلاف واقعہ ہے۔ کم از کم ایک بار اس قسم کی اعلیٰ سطحی میٹنگ میں میں خود شریک رہا ہوں۔ میں نے پایا ہے کہ نام نہاد مسلم لیڈروں کا رویہ ان مواقع پر انتہائی غیر معقول ہوتا ہے۔ ان میٹنگوں میں مسلم نمائندے بالکل وکیلانہ اور مناظرانہ بحث کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ حالاں کہ نازک اور حساس مسائل میں وکیلانہ اور مناظرانہ طریقہ صرف مسئلہ کو مزید پیچیدہ بناتا ہے، وہ کسی بھی درجہ میں اس کو حل نہیں کرتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page