Urdu book · قیادت نامه

قیادت کا دیوالیہ پن

Urdu book, p. 83

By Maulana Wahiduddin Khan

نے اس کو مانا، اور مسلمانوں نے اس کو نہیں مانا۔ اسی طرح کوئی دوسری عدالت اس سے مختلف حکم دے تو مسلمان اس کو مانیں گے مگر ہندو اس کو نہیں مانیں گے۔ اور پھر مسئلہ جہاں تھا وہیں باقی رہے گا۔ ایسے ہی نازک اجتماعی معاملات کے لیے حکم اور ثالث کا اصول مقرر کیا گیا ہے۔ یہ "عدالت" کی وہ قسم ہے جس میں دونوں فریق پیشگی اقرار کے ذریعہ اس پر راضی ہوجاتے ہیں کہ وہ اس کے فیصلے کو مانیں گے، خواہ وہ ان کے موافق ہو یا ان کے خلاف۔ اوپر ہم نے ۲ مارچ ۱۹۸۷ء کی مشترکہ میٹنگ کی جو روداد درج کی ہے، وہ بتاتی ہے کہ ڈیڑھ سال پہلے یہ مسئلہ مکمل طور پر اس قسم کے ایک باعزت حل کے قریب پہونچ گیا تھا۔ یہ گویا "تاریخ کی عدالت" کو حکم بنانے کے ہم معنی تھا۔ مگر انھیں سیاست باز لیڈروں نے اس حل کو واقعہ بننے نہیں دیا جو اس مسئلہ کو حل کرنے کے نام پر لیڈری کے میدان میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے لیے دوڑ لگارہے ہیں۔ مرکزی رابطہ بابری مسجد کمیٹی کے چیئرمین صاحب کا ایک انٹرویو افکار ملی (۳۱ مئی ۱۹۸۸) میں چھپا ہے ۔ اس کا ایک سوال و جواب یہ ہے : سوال تحریک بازیابی بابری مسجد کی اب تک کی کارکردگی کے بارہ میں آپ کا کیا تبصرہ ہے۔ جواب دو سال میں سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ آج ملک کے ایجنڈے پر بابری مسجد کا مسئلہ ہے۔ حکومت آخری دم تک اس کو مقامی مسئلہ کہتی رہی ہے۔ لیکن آج حکومت تسلیم کرتی ہے کہ یہ ملکی مسئلہ ہے۔ اس طرح ہم اسے ملکی سطح پر لے آئے۔ یہ بلاشبہ صرف ایک غیر سنجیدہ لفظی ہے کہ بابری مسجد کا مسئلہ آج ملکی ایجنڈے پر ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ بابری مسجد کا مسئلہ آج ملکی تشدد کی فہرست پر ہے۔ اس تحریک نے ایک مقامی نزاع کو ایک ملکی نزاع بنادیا ہے۔ عام حالت میں جو چیز صرف ایک قصبہ کے ہندوؤں اور مسلمانوں میں تناؤ کا سبب بن سکتی تھی، اس کو پورے ملک کے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تناؤ کا سبب بنا دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ "چیئرمین صاحب" نے جس چیز کو اپنی تحریک کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیا ہے، وہی اس کی سب سے بڑی ناکامی ہے ۔ "ایودھیا" اور "رام جنم بھومی" ہندو عقیدہ کے مطابق ان کے مقدس مقامات ہیں۔ وہ ہندو قوم کے لیے انتہائی حساس اشو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایسے نازک اور حساس سوال کو مقامی کش کش

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page